Bharat Express DD Free Dish

Israel Hamas Attack

Israel Hamas War: حماس کا افسران کا کہنا ہے کہ آنے والے کچھ گھنٹوں میں یرغمالیوں کی رہائی ہوسکتی ہے اور جنگ بندی کا اعلان ہوسکتا ہے۔

ایران کے تین سینئرعہدیداروں نے انکشاف کیا کہ ایرانی سپریم لیڈرعلی خامنہ ای نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کو نومبرکے اوائل میں تہران میں ملاقات کرتے ہوئے واضح پیغام بھیجا تھا کہ حماس نے ایران کو 7 اکتوبرکو اسرائیل پرہونے والے حملے کے بارے میں مطلع نہیں کیا تھا اوراس لئے تہران حماس کی جانب سے جنگ میں شامل ہونے کی بات کو نہیں مانے گا۔

7 اکتوبر کو حماس کے حملے اور اسرائیل کی جوابی کارروائی میں اب تک 10 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج اب غزہ کے اندر داخل ہو کر آپریشن کر رہی ہے۔

اسرائیلی قتل وغارت گری میں 11 ہزار سے زیادہ فلسطینی عوام شہید ہو چکے ہیں، جن میں کافی بڑی تعدا بچوں اور خواتین کی ہے۔ جبکہ حماس کے حملے میں اسرائیل کے تقریباً 1,400 لوگ ہلاک ہوئے ہیں اور220 سے زیادہ لوگوں یرغمال ہیں۔

Israel Gaza War: حماس کے حملے کے بعد سے غزہ پر اسرائیلی کارروائی ایک ماہ سے زیادہ وقت سے جاری ہے۔ اب امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل سے 3 دنوں سے زیادہ لڑائی کو روکنے کے لئے کہا ہے۔

راشدہ طلیب امریکی کانگریس میں دوسری مسلم امریکی خاتون ہوں گی جنہیں اس سال یہودی ریاست پر تنقید کرنے پر باضابطہ طور پر تنبیہ کی جائے گی۔ ریپبلکن قانون ساز الہان ​​عمر کو فروری میں اسرائیل کے خلاف اسی طرح کے تبصروں پر ہٹا دیا گیا تھا۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ حماس کی طرف سے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سے قبل غزہ میں کوئی جنگ بندی یا ایندھن کی ترسیل نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم حملے جاری رکھیں گے۔

Israel-Palestine War: اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جنگ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ اس درمیان غزہ پٹی کے ایک اور پناہ گزیں کیمپ میں دھماکہ ہوا ہے۔ حالانکہ حملے سے متعلق اسرائیلی فوج نے فوراً کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

جمہوری ملک میں انتخابات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ الیکشن جیتنا ہر سیاسی جماعت کا مقصد ہوتا ہے۔ اس کے لیے پالیسیوں سے سمجھوتہ تک کر لیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے دوران دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافے کا خدشہ رہتا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے غزہ کے مسلمانوں کی آزادی کا اعلان کیا ہے۔ ان کا یہ اعلان براہ راست اسرائیل کو اسلامی اور غیر اسلامی پولرائزیشن کی بنیاد پر گھیرنے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے۔ اس میں عرب اسرائیل جنگ کے ماضی کی جھلک بھی موجود ہے۔