Bharat Express DD Free Dish

Islamabad Police

پاکستانی حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست دائرکی تھی، جسے سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا۔ شہبازشریف حکومت کا موقف تھا کہ یہ قانون کے خلاف ہے۔

پاکستان کی سیاست میں ایک بڑی اور سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سابق وزیر اعظم اور عالمی شہرت یافتہ کرکٹر عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ٹو کیس میں 17، 17 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

پاکستان میں سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنوں اور پارٹی کے متعدد لیڈروں و کارکنوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ کارروائی راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والے احتجاج کے بعد عمل میں آئی، جہاں عمران خان کے اہلِ خانہ اور حامیوں نے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر شدید نعرے بازی کی تھی۔

پی ٹی آئی نے فوجی عدالتوں میں شہریوں کے خلاف جاری مقدمات پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اس میں الزام لگایا گیا کہ حکومت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ 9 مئی کے واقعے کو عمران خان اور پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

محسن نقوی نے کہا کہ میں ایک بار پھر کہہ رہا ہوں کہ بیلاروس کے صدر پاکستان میں ہیں، اس لئے ریڈ لائن نہ عبور کریں، ورنہ ہمیں آرٹیکل 245 نافذ کرنا پڑے گا، کرفیو لگانا پڑے گا اور انتہائی سخت اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔ وہ (پی ٹی آئی کے مظاہرین) ڈی چوک نہیں آسکتے، اب ایسا نہیں ہو سکتا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب بس ڈرائیور موڑ لیتے ہوئے گاڑی پر سے کنٹرول کھو بیٹھا۔ انہوں نے بتایا کہ بس وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ جارہی تھی۔

پاکستان میں پولیس اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے درمیان پرتشدد تصادم ہوا، جس میں 8 پولیس اہلکار زخمی اور ایس ایس پی شدید زخمی ہوگئے۔

فوج نے کہا کہ جاری کارروائیوں سے عسکری گروپوں اور ان کے ساتھیوں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں امن قائم ہونے اور عسکریت پسندوں کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔

بدھ کے روز ہونے والے تشدد کے بعد جڑانوالہ میں 3000 سے زائد پولیس اہلکار اور پاکستان رینجرز کی دو کمپنیاں تعینات کر دی گئی ہیں۔ حکومت نے جڑانوالہ میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے چار یا اس سے زائد افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔