Bharat Express DD Free Dish

Iran US Israel Conflict

مغربی ایشیا میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے امن کی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی ہے۔ اس گفتگو میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا گیا۔

بھارتی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، "یہ خوش آئند خبر ہے کہ کل شام الخارج میں پیش آنے والی افسوسناک واقعے میں کسی بھارتی کی موت نہیں ہوئی۔ سفارتخانہ متعلقہ سعودی حکام کے رابطے میں ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے اس جنگ کے بعد ایران کی جغرافیائی یا سیاسی ساخت تبدیل ہو جائے اور ملک مستقبل میں ویسا نظر نہ آئے جیسا آج ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس فوجی مہم کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت کو مستقل طور پر کمزور کرنا تھا۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران کی اس جارحانہ حکمت عملی کے پیچھے روس اور چین کی ممکنہ مدد بھی شامل ہو سکتی ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ دونوں طاقتیں مختلف طریقوں سے ایران کی معاونت کر رہی ہیں جس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید امریکی حملوں کے باوجود ایران کی بحری سرگرمیاں کم ہونے کے بجائے مزید تیز ہو گئی ہیں۔

شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے کہا کہ وہ ملک کی بہادر مسلح افواج، سکیورٹی اداروں اور ان تمام قومی اداروں اور ٹیموں کے شکر گزار ہیں جو ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ادارے تیاری، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں اور قوم کو ان پر فخر ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ہفتہ کو کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کا مقصد ایران کو کمزور اور تقسیم کرنا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کریں اور مانیں کہ انہیں اسرائیل نے دھوکہ دیا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان ایران کے پرانے دشمن کرد اب اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں۔ انہیں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ ٹرمپ نے کھل کر کردوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر عراق میں موجود ایرانی کرد فورسز ایران میں داخل ہو کر تہران پر حملہ کرتی ہیں تو یہ ایک اچھی خبر ہوگی۔

ایران-اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران، ایرانی جہاز آئرس لاون کو تکنیکی خرابی کی وجہ سے بھارت نے کوچی بندرگاہ پر ایمرجنسی ڈاکنگ کی اجازت دی، جبکہ اسی دن ایرانی جہاز آئرس ڈینا پر امریکی حملے میں یہ جنگی جہاز ڈوب گیا، جس سے خطے میں تناؤ بڑھ گیا۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے پورے مڈل ایسٹ کے خطے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ فضائی حدود بند ہو گئی ہیں، سفارت خانوں پر حملے ہوئے اور تیل و گیس کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ خلیجی ممالک سے لے کر لبنان تک اس تنازعے کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوِٹ نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی آپریشن "آپریشن ایپک فیوری" بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس کے ہدف آئندہ چند ہفتوں میں حاصل ہو سکتے ہیں۔