Bharat Express DD Free Dish

Iran news

ایران کے سفارت خانے نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے 20 لاکھ ڈالر وصول کیے جانے کی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے تمام دعوے مکمل طور پر جھوٹے، گمراہ کن اور بے بنیاد ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

میکرون نے اپنے پیغام میں لکھا کہ انہوں نے ایرانی صدر کو یاد دلایا کہ فرانس اپنے قومی مفادات، خطے میں موجود اپنے شراکت داروں اور بین الاقوامی سمندری راستوں پر آزادانہ نقل و حرکت کے تحفظ کے لیے پوری طرح دفاعی اقدامات کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صورت میں فرانس یا اس کے مفادات کو نشانہ بنانا قابل قبول نہیں ہوگا۔

عالمی حالات کے تناظر میں ملک کے مختلف حصوں میں ردعمل کا سلسلہ جاری ہے، اسی دوران اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں ایران سے متعلق جاری مظاہروں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی رکن اسمبلی ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے ان احتجاجی سرگرمیوں کی مذمت کی ہے۔

وزیر اعظم مودی کے جاری دورۂ اسرائیل کے درمیان ایران نے اہم سفارتی بیان دیتے ہوئے بھارت سے فلسطین کے مسئلے پر فعال کردار ادا کرنے کی امید ظاہر کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ وزیر اعظم مودی اسرائیل میں قیام کے دوران فلسطینی عوام کے حقوق کا معاملہ ضرور اٹھائیں گے۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف جہاں انہوں نے ایران کو پہلے سے بھی بڑے حملے کی دھمکی دی، وہیں اب انہوں نے تہران کے ساتھ بات چیت کا عندیہ دے کر اپنے مؤقف میں واضح نرمی دکھائی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایران کو گھیرنے کی امریکی کوششوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب عراق میں شیعہ اتحاد نے سابق وزیرِ اعظم نوری المالکی کے نام کو ایک بار پھر وزارتِ عظمیٰ کے لیے آگے بڑھا دیا۔ نوری المالکی کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ پارلیمانی اکثریت کے پیش نظر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ المالکی آسانی کے ساتھ عراق کے نئے وزیرِ اعظم منتخب ہو سکتے ہیں۔

کیا جنگ کے دہانے پر کھڑا ایران امریکا کے سامنے جھک گیا ہے، یا یہ کوئی نئی سفارتی چال ہے؟ تہران نے اچانک ’بات چیت‘ کی تجویز بھیجی، لیکن ٹرمپ کی وارننگ نے دنیا کی دھڑکنیں تیز کر دیں؛ پڑھیں پوری خبر

ایران میں نئے سال کا آغاز شدید عوامی بے چینی اور پرتشدد احتجاج کے ساتھ ہوا ہے۔ ملک میں بگڑتی معیشت، بے قابو مہنگائی اور کرنسی بحران کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ ان مظاہروں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ کئی مقامات پر احتجاج پرتشدد صورت اختیار کر چکا ہے۔

ایران اور بھارت کے درمیان تعلقات محض سیاسی یا سفارتی نوعیت کے نہیں، بلکہ تہذیبی، تاریخی اور معاشی بنیادوں پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک کا رشتہ ہزاروں برس پر محیط ہے اور اسی طویل ربط نے آج دونوں کو خطے کے اہم شراکت داروں میں بدل دیا ہے۔

صدر رئیسی کی موت کے بعد ایرانی حکومت کی طرف سے بلائے گئے ایک ہنگامی اجلاس میں ان کی کرسی خالی چھوڑ دی گئی اور ان کی یاد میں سیاہ پٹی میں لپیٹ دی گئی۔