Russia Condemns Deadly Attacks On Iran: فوجی کارروائیوں کے نتائج عوام کو بھگتنا پڑیں گے، ایران کے معاملے پر روس کا سخت بیان
روس نے ایران کے خلاف مبینہ امریکی۔اسرائیلی مشترکہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فوجی مہم کی اصل قیمت عام شہریوں کو چکانی پڑ رہی ہے اور آئندہ بھی اس کے سنگین نتائج عوام کو ہی بھگتنا ہوں گے۔ روسی حکام نے الزام عائد کیا کہ ایران کی جانب سے بتائے گئے خطرات کو جواز بنا کر ایک خودمختار ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے۔
Saudi Reacts To Drone Attack On US Embassy In Riyadh: ریاض میں امریکی سفارت خانے کی عمارت پر حملہ قابل مذمت: سعودی عرب
سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کی عمارت کو نشانہ بنائے جانے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں اور سفارتی روایات کے منافی ہیں۔
Hina Khan Supports PM Modi: ایران۔اسرائیل کشیدگی کے دوران حنا خان نے وزیر اعظم مودی کی حمایت کی، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت پر سوشل میڈیا پر ہوئیں ٹرول
معروف ٹی وی اداکارہ حنا خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کی حمایت کا اظہار کیا۔ حنا خان نے ایک بچے کی تصویر شیئر کی جس میں وہ سڑک پر ٹائر کو ڈنڈے سے چلاتے ہوئے دوڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ تصویر کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ جو لوگ خود کچھ ٹھیک سے نہیں چلا سکتے، وہ اس شخص پر سوال اٹھا رہے ہیں جو اتنے بڑے ملک کو چلا رہا ہے۔
PM Modi Speaks To Oman And Kuwait Leaders Over Attacks: مشرق وسطیٰ بحران: وزیر اعظم مودی نے کویت کے ولی عہد اور عمان کے سلطان سے کی بات، تشویش کا اظہار
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان وزیر اعظم مودی نے منگل کی دوپہر خلیجی خطے کے دو اہم رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نےعمان کے سلطان ہیثم بن طارق اور کویت کے ولی عہد شیخ صباح الخالد الصباح سے بات چیت کرتے ہوئے خطے کی تازہ صورتحال اور وہاں مقیم بھارتی شہریوں کی سلامتی پر تبادلہ خیال کیا۔
Indian Embassy In Abu Dhabi Fresh Advisories: دبئی میں بھارتی سفارت خانے کی ایڈوائزری، غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر دبئی میں قائم دبئی میں بھارتی قونصلیٹ جنرل نے متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی شہریوں کے لیے احتیاطی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ جاری بیان میں شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور موجودہ حالات کے پیش نظر مکمل چوکسی اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
Iran-US-Israel Conflict: ٹرمپ طویل جنگ نہیں چاہتے، مقصد صرف ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے: امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی طویل یا غیر معینہ مدت کی جنگ کے خواہاں نہیں ہیں، بلکہ ان کا بنیادی اور واحد مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ماہ کی سفارتی کوششوں کے بعد صدر اس نتیجے پر پہنچے کہ فیصلہ کن اقدام ہی ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کا مؤثر راستہ ہے۔
Qatar Ministry Of Interior Warns: کسی بھی واقعے کی ویڈیو یا تصویر پوسٹ نہ کی جائے، قطر کی وزارت داخلہ کی عوام سے اپیل
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان قطر کی وزارت داخلہ نے عوام کے نام ایک اہم عوامی نوٹس جاری کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ کسی بھی حادثے یا سیکیورٹی واقعے سے متعلق ویڈیو کلپس یا تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہ کی جائیں۔ ایران کے ساتھ جنگ کے چوتھے روز قطر اور بحرین دونوں کی جانب سے شہریوں کے لیے احتیاطی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
Middle East Conflict News: پاکستان نکلا دھوکے باز! امریکہ کو اپنی فضائی حدود دینے پر ایران کا سخت ردعمل – کہا چکانی ہوگی بھاری قیمت
ایران نے پاکستان کو دھوکے باز قرار دیتے ہوئے اسے بھاری قیمت چکانے کی سخت وارننگ دی ہے۔ ایران کا الزام ہے کہ پاکستان نے امریکہ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی، جس کی مدد سے ایران کے اندر شدید حملے انجام دیے گئے۔
Iran-Israel War: کیا وزیر اعظم مودی کو پہلے ہی معلوم تھا کہ ایران پر کب ہوگا حملہ؟ اسرائیلی سفیر کا دعویٰ — پی ایم کی روانگی کے بعد دیے گئے احکامات
گزشتہ 28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملے کے بعد کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل دورے کے تناظر میں۔
Iran Natanz Nuclear Site Attack: کیا اب جنگ ’ایٹمی‘ رخ اختیار کرے گی؟ ایران کے سب سے بڑے جوہری مرکز پر حملہ، تہران کا دعویٰ — خطرے میں ہے پوری دنیا
ایران کے نطنز جوہری مرکز پر حملے نے اس تنازع کو انتہائی خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ نطنز صرف ایران کا یورینیم افزودگی مرکز ہی نہیں بلکہ زمین کے اندر گہرائی میں قائم ہونے کی وجہ سے اسے ناقابلِ تسخیر دفاعی تنصیب سمجھا جاتا تھا۔ اگر تابکاری کے اخراج (ریڈی ایشن لیک) کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ جنگ محض فوجی تصادم تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک عالمی ماحولیاتی تباہی کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔





