Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel War

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اور اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے حکومت سے یہ واضح کرنے کی درخواست کی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے سے پہلے بھارت کو مطلع کیا تھا یا نہیں۔

ایئرپورٹ اتھارٹی نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کی پرواز مشرق وسطیٰ کے کسی شہر کے لیے مقرر تھی تو وہ اپنی ایئرلائن سے رابطہ کرکے پرواز کی حالت کی تصدیق ضرور کریں۔

امریکہ نے ایران-اسرائیل جنگ کے درمیان بھارت کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی خصوصی چھوٹ دی ہے، جس پر ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس نے اس فیصلے کو بھارت کی خودمختاری اور آزادی پر ”کرارا طمانچہ“ قرار دیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ امریکہ کس حیثیت سے بھارت کو یہ اجازت دے رہا ہے۔

آئی آر آئی ایس بوشہر ایک ایرانی بحری جہاز ہے جس نے انٹرنیشنل فلیٹ ریویو-2026 میں حصہ لیا تھا۔ یہ بھارت میں ہونے والی مشترکہ بحری مشق میں بھی شامل تھا، جس میں آئی آر آئی ایس ڈینا جنگی جہاز بھی شامل تھا۔

عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے بڑھتے خدشات کے درمیان امریکہ نے بھارت کو روس سے تیل خریدنے کے لیے 30 دن کی خصوصی چھوٹ دی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی تیل کی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے اور بھارت اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع کی تلاش میں ہے۔

چک شومر نے خبردار کیا کہ یہ تنازعہ اب اپنے ابتدائی دائرے سے باہر پھیلتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق لڑائی کے اثرات جنوب میں بحرِ ہند تک اور شمال میں آذربائیجان تک ڈرون حملوں کی صورت میں دیکھے جا رہے ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے جاری مشترکہ فوجی جارحیت کی ایک بار پھر سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ تصادم کو ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جانا چاہئے۔

بحرِ ہند میں سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب ایک سنگین بحری واقعہ پیش آیا ہے جہاں امریکہ کی آبدوز نے ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنا کر ڈبو دیا۔ اس حملے میں کم از کم 87 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ 32 کو زندہ بچا لیا گیا۔ واقعے نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ایران نے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس کے جواب میں امریکہ اور اسرائیل نے وسیع فوجی کارروائیاں انجام دیں۔

ایران کی دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں بدھ کی شب منعقد ہونے والی تقریب کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امام خمینی پریئر ہال میں 4 مارچ 2026 کی شام سے شروع ہونے والی تین روزہ تعزیتی تقریب فی الحال مؤخر کر دی گئی ہے۔