Bharat Express DD Free Dish

Indian PM Modi

لوک سبھا میں اس اہم بحث کے دوران تازہ ووٹنگ میں 333 اراکین میں سے 207 ارکان نے بل پیش کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 126 ارکان نے اس کی مخالفت کی۔ اس ووٹنگ کے بعد ایوان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی تناؤ مزید بڑھ گیا۔ حکومت اس بل کو آئینی ترمیم کے طور پر آگے بڑھا رہی ہے، جس کے لیے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت درکار ہوگی۔

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر جاری بحث کے دوران کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا کہ وزیر اعظم نے آج ایوان میں اس موضوع کا ذکر کیا، لیکن صرف آدھی بات بتائی۔ ”میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ اس وقت اس کی مخالفت بی جے پی نے ہی کی تھی“۔

وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ ہندوستانی ریلوے کے پورے نظام میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں اور ان کے مثبت نتائج اب واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران واضح پالیسی، جدید ٹیکنالوجی اور مسلسل سرمایہ کاری کے ذریعے ریلوے کے حفاظتی نظام کو مضبوط بنایا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران خواتین ریزرویشن بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے عمل میں کسی بھی ریاست یا علاقے کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشہ بدلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس بل کے ذریعے واقعی تمام طبقات کی خواتین کو فائدہ ہوگا، خاص طور پر مسلم اور او بی سی خواتین کو۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ریزرویشن دینا ہے تو پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ خود نشستیں مختص کریں، نہ کہ علاقوں کی بنیاد پر تبدیلی کی جائے۔

ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اگر اپوزیشن اس بل کی مخالفت کرتی ہے تو اس سے انہیں سیاسی فائدہ ہوگا، لیکن اگر وہ اس کی حمایت کرتی ہے تو وہ خود اپوزیشن کو اس کا کریڈٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر کسی قسم کا کریڈٹ نہیں چاہیے۔

روڈ شو کے دوران سڑکوں پر لوگوں کا جم غفیر امڈ آیا، جس میں نوجوانوں، خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ راستے بھر لوگوں نے وزیر اعظم کا پرتپاک استقبال کیا اور جوش و خروش کا اظہار کیا۔ مبصرین کے مطابق یہ اجتماع اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست میں سیاسی ماحول تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔

وزیر اعظم مودی اس بل پر لوک سبھا میں خطاب کریں گے اور اس کی اہمیت، مقاصد اور ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالیں گے۔ وہ اس اقدام کو خواتین کی سیاسی شمولیت بڑھانے اور جمہوری نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ضروری قرار دیں گے۔ دوسری جانب قانون وزیر ارجن میگھوال اس بل کو باضابطہ طور پر پیش کریں گے۔

منگل 14 اپریل کو اپنے بیان میں امت شاہ نے کہا کہ خواتین ریزرویشن بل نہ صرف وقت کی ضرورت ہے بلکہ یہ ملک کی ’ناری شکتی‘ کا بنیادی حق بھی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ موجودہ حکومت اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اسے مزید تاخیر کے بغیر عملی شکل دی جانی چاہیے۔

سمراٹ چودھری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ عوامی توقعات پر پورا اترنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے اور اپنی ذمہ داریوں کو پوری دیانتداری سے انجام دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی اولین ترجیح ریاست کی ترقی، خوشحالی اور بہتر حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگی۔