Bharat Express DD Free Dish

India US Trade Deal

یہ پیش رفت اس ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے جس میں گزشتہ جون امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے امریکی وفد کے ہمراہ بھارت کے مرکزی وزیرتجارت و صنعت پیوش گوئل سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں عبوری تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات کو آگے بڑھانے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ دوطرفہ تجارتی معاہدے (BTA) کا پہلا مرحلہ تقریباً حتمی مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ مرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہا ہے کہ مذاکرات کا 99 فیصد حصہ مکمل ہو چکا ہے اور جون میں ہونے والی اہم ملاقات کے بعد کسی بڑے اعلان کا امکان ہے۔

یہ خصوصی تقریب امریکہ کی آزادی کے اعلان کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ پروگرام کے دوران جب ڈونلڈ ٹرمپ بڑی اسکرین پر نمودار ہوئے تو انہوں نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”سرجیو، تمہیں ہمارے ملک کی نمائندگی کرنی ہوگی، لیکن میں سب کو ہیلو کہنا چاہتا ہوں۔ مجھے وزیر اعظم بہت پسند ہیں۔ مودی عظیم ہیں، وہ میرے دوست ہیں“۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے اور وسیع بی ٹی اے (BTA) کے تحت مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے واشنگٹن میں امریکی ہم منصب کے ساتھ اہم ملاقات ہوئی، جسے وزارتِ تجارت و صنعت نے معاہدے کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔

ایجنڈے میں دفاعی شعبے کے حوالے سے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنے صنعتی ڈھانچے کو جنگی بنیادوں کے مطابق ڈھالے گا اور ہم خیال ممالک کے ساتھ اہم معدنیات پر نئے تجارتی معاہدے کرے گا۔

کانگریس سے وابستہ کارکنان کا مؤقف ہے کہ ان کا احتجاج مجوزہ انڈو۔یو ایس ٹریڈ ڈیل کے خلاف تھا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ معاہدہ ملکی اقتصادی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ حکومت بین الاقوامی تجارتی معاہدوں میں مقامی صنعتوں اور نوجوانوں کے مفادات کو نظرانداز کر رہی ہے۔

بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے پر سیاسی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ پیوش گوئل نے راہل گاندھی کے الزامات کو ’من گھڑت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کسانوں کے مفادات کا مکمل تحفظ کیا ہے۔ دوسری جانب راہل گاندھی نے اس معاہدے کو کسانوں پر سیدھا حملہ قرار دیا ہے۔

کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں ملک بھر سے آئے مختلف کسان تنظیموں کے لیڈروں سے ایک اہم ملاقات کی، جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اس ملاقات میں کسان نمائندوں نے اس معاہدے کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی گفتگو کی اور اسے کسانوں کے مفادات کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

گریگوری شولٹے نے کہا کہ اس اقدام کا تیسرا بڑا فائدہ بھارت اور امریکہ سمیت دیگر ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانا ہے۔ ان کے مطابق ایک جمہوری، مستحکم اور خوشحال بھارت عالمی امن اور سلامتی کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے کو لے کر لوک سبھا میں بدھ کے روز حکومت کی جانب سے واضح اور دو ٹوک مؤقف سامنے آیا۔ مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے ایوان کو یقین دلایا کہ بھارت۔امریکہ ٹریڈ ڈیل مکمل طور پر متوازن ہے اور اس سے بھارتی کسانوں، زرعی شعبے اور ڈیری سیکٹر کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا۔