Bharat Express DD Free Dish

India US Trade Deal

وزیر داخلہ امت شاہ نے نے دعویٰ کیا ہے کہ چھوٹی صنعتوں کی عالمی مسابقت بڑھے گی، سرمایہ کاری اور کریڈٹ فلو میں اضافہ ہوگا اور 2047 تک وکست بھارت کے ہدف کو نئی رفتار ملے گی۔ قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے ساتھ یہ تجارتی معاہدہ ایسے وقت میں طے پایا ہے جب بھارت نے حال ہی میں یورپی یونین کے ساتھ بھی ایک تاریخی تجارتی معاہدہ کیا ہے۔

بھارت کا ٹیکسٹائل اور ریڈی میڈ گارمنٹس سیکٹر اس معاہدے سے بڑا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسی طرح جیمز اینڈ جیولری، جو بھارت کا اہم برآمدی شعبہ ہے، اسے بھی امریکی مارکیٹ تک بہتر رسائی ملنے کی امید ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ منیش تیوری نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بھارت کا ٹیرف اب صفر ہے۔ لیکن کیا یہ درست ہے کہ امریکی مصنوعات پر بھارت صفر ٹیرف لگائے گا، جبکہ بھارت کے برآمدات پر 18 فیصد ٹیرف لگے گا؟ یہ اہم سوالات ہیں، جن پر ہم واضح جواب چاہتے ہیں۔‘‘

شیو سینا (یو بی ٹی) کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی نے مزید کہا کہ امریکہ کے ریپبلکن سینیٹروں اور دیگر منتخب لیڈران کے ایکس پوسٹس سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ بھارت نے زراعت، کوئلہ اور دیگر شعبوں میں بھی اپنی منڈیاں کھولنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

امریکہ اور بھارت کے درمیان طے پانے والے تجارتی معاہدے پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر وزیرِاعظم نریندر مودی اور پورے ملک کو مبارکباد دی ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر اتفاقِ رائے نہیں بن سکا ہے۔ ایکسیوس (Axios) کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اندر سے ہی اس معاہدے کی مخالفت ہو رہی ہے۔

بھارت میں امریکہ کے نئے سفیر سرجیو گور نے اس ہفتے کے آغاز میں باضابطہ طور پر اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ ذمہ داریاں سنبھالتے ہی انہوں نے ممبئی کا دورہ کیا، جہاں ان کی ملاقات ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر سنجے ملہوترا سے ہوئی۔ اس ملاقات کو بھارت اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور مالی تعاون کے تناظر میں خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدے پر بات چیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اس حوالے سے اگلی باضابطہ ملاقات منگل کو ہونے جا رہی ہے۔ یہ بات بھارت میں حال ہی میں تعینات ہونے والے امریکی سفیر سرجیو گور نے پیر کے روز نئی دہلی میں کہی۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ نہ ہونے کی ذمہ داری بھارت پر ڈالنا درست نہیں۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سال 2025 کے دوران وزیر اعظم مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان آٹھ مرتبہ براہِ راست بات چیت ہوئی ہے اور دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی معاہدے پر سنجیدگی سے مذاکرات کیے ہیں۔

اس پورے معاملے میں بھارت خاص طور پر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد بھارت نے روس سے سستا تیل خرید کر اپنی توانائی کی ضروریات پوری کی ہیں۔ اگر امریکہ کا یہ نیا قانون نافذ ہو جاتا ہے تو بھارت کو بھاری ٹیکس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے،