Urdu Conclave 2026

India-Ukraine relations

ملاقات کے بعد جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ صدر زیلنسکی سے ملاقات کرکے خوشی ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے یوکرین کے وزیر خارجہ آندری سیبیہا کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے حوالے سے ہونے والی بات چیت سے زیلنسکی کو آگاہ کیا۔ جے شنکر کے مطابق ملاقات میں جاری جنگ کے خاتمے کے ممکنہ طریقوں پر خصوصی توجہ رہی۔

زیلنسکی نے کہا کہ ایس سی او اجلاس سے پہلے دونوں رہنماؤں نے اس مؤقف پر اتفاق کیا کہ جنگ کا خاتمہ فوری جنگ بندی اور ضروری امن سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اجلاس کے دوران ضروری کوششیں کرنے اور روس و دیگر رہنماؤں کو مناسب پیغام دینے کے لیے تیار ہے۔

پی ایم مودی نے کہا کہ ’’ہندوستان ہمیشہ امن کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ بھارت مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعہ کے جلد، مستقل اور پرامن حل کی مخلصانہ کوششوں کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘‘

اولینا الچک نے کہا کہ’’یہ صرف زمین کے لیے نہیں، بلکہ یوکرینی شناخت، زبان اور قومیت کے وجود کی جنگ ہے۔ روس یوکرین کو ایک علیحدہ قوم کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔‘‘

رندھیر جیسوال نے کہاکہ روسی فوج میں 18 ہندوستانی شہری باقی ہیں اور ان میں سے 16 لاپتہ ہیں۔ روسی فریق نے انہیں لاپتہ قرار دیا ہے۔ ہم ان کی جلد رہائی اور ملک واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس طرح کی افواہیں پھیلانے کے بعدوزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا، "ہم نے رائٹرز کی خبر دیکھی ہے۔ یہ بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ یہ بھارت کی طرف سے خلاف ورزی کی بات کہی گی ہے، جب کہ ایسا کچھ نہیں ہے،

روس اور یوکرین کے درمیان جنگ 24 فروری 2022 کو شروع ہوئی تھی۔ یہ واضح تھا کہ اجلاس کا اصل فوکس جنگ پر ہوگا۔ اس دوران پی ایم مودی نے ہندوستان کے اس موقف کو دہرایا کہ یہ "جنگ کا دور نہیں ہے"۔ بھارت نے تنازع کا حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے آج یوکرین کی حکومت کو چار بھیشم (سہیوگ ہِت اور میتری کے لیے بھارت کی صحتی  پہل قدمی) کیوبس پیش کیے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے انسانی بنیاد پر دیے گئے اس تعاون کے لیے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔

پی ایم مودی کسی پروگرام میں شرکت کے لیے یوکرین کا دورہ نہیں کر رہے ہیں، لیکن صدر ولادیمیر زیلنسکی نے انہیں کیف آنے کی دعوت دی تھی۔ فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے ٹرین کے ذریعے کیف جانا پڑتا ہے۔

پی ایم او نے کہا کہ وزیر اعظم مودی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی دعوت پر یوکرین کا دورہ کر رہے ہیں۔ یہ کسی ہندوستانی وزیر اعظم کا یوکرین کا پہلا دورہ ہوگا۔