Bharat Express DD Free Dish

India-Russia

دورے کے دوران منتوروف نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی، جس میں دو طرفہ اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے، صنعتی شراکت داری بڑھانے اور نئی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر بات چیت ہوئی۔

ماہرین کے مطابق، موجودہ عالمی حالات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس تناظر میں یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت دینے اور مستقبل کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن کا بھارت میں شاندار استقبال کیا گیا۔ وزیر اعظم مودی نے ایئرپورٹ پر اُنہیں گلے لگایا اور دونوں نے ایک ہی گاڑی میں سفر کیا۔ دونوں کے چہروں پر خوشی نمایاں تھی اور انہوں نے ثقافتی پروگرام بھی دیکھا۔

نئی دہلی: روس کے صدر ولادیمیر پوتن دوروزہ دورے پربھارت پہنچ گئے ہیں۔ دہلی کے پالم ہوائی اڈے پروزیراعظم نریندرمودی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’مجھے اپنے دوست صدر پوتن کا دہلی میں استقبال کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔ میں آج شام اور کل ہماری ملاقاتوں کا منتظر ہوں‘۔

کمپنی نے واضح کیا کہ سپلائی کنٹریکٹس اور مارکیٹ ریگولیٹری حالات تبدیلی کے تابع ہیں، جو کہ توانائی کی صنعت میں عام ہے۔ ریلائنس اپنے سپلائرز کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے متبادل ذرائع سے خام تیل کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔

روسی صدر پوتن نے وزیراعظم نریندر مودی کو ’’بااعتماد ساتھی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ  بھارت-روس تعلقات تاریخی اور خصوصی نوعیت کے ہیں۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف صدر پتن کے دورے سے قبل بھارت آئیں گے۔ سربراہی اجلاس کی تیاری اور اہم دوطرفہ معاملات پر گفتگو کا امکان۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق، روس بھارت کے لیے ایک دیرینہ اور آزمودہ شراکت دار رہا ہے۔ بھارت-روس تعلقات کی ترقی بھارت کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون رہا ہے۔ اکتوبر 2000 میں (صدر پوتن کے دورے کے دوران) ’بھارت-روس اسٹریٹیجک پارٹنرشپ کے اعلان‘ پر دستخط ہونے کے بعد سے یہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

وزیراعظم نے روسی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بھارت-روس تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور یوکرین تنازع کے پرامن حل میں تعاون کی یقین دہانی کرائی

اس سے قبل وزیر اعظم مودی نے چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کی۔ یہ ملاقات 2024 کے قازان میں ہونے والے BRICS اجلاس کے بعد ان دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات تھی۔