Bharat Express DD Free Dish

India and Pakistan

پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے پہلگام دہشت گردانہ حملے سے متعلق ہندوستان کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارت نے چند منٹوں میں یہ کیسے طے کر لیا کہ اس حملے کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے۔

اپریل 2022 سے پاکستان میں کوئی این ایس اے نہیں ہے۔ پاکستان کے آخری قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف تھے۔ اب ان کے بعد عاصم کو ذمہ داری ملی ہے۔ وہ آئی ایس آئی کے سربراہ ہونے کے ساتھ اس عہدے پر بھی فائز رہیں گے۔

یہ فائرنگ پاکستانی فوج کی طرف سے بلا اشتعال کی جا رہی ہے۔ جہاں منگل کو لائن آف کنٹرول کے پار سے کپواڑہ، بارہمولہ اور اکھنور سیکٹروں میں فائرنگ ہوئی، وہیں کل کپواڑہ اور پونچھ کے سرحدی علاقوں میں فائرنگ کی گئی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہا۔ انہوں نے مسلسل پانچویں روز جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ پاکستان نے بارہمولہ سمیت کئی مقامات پر گولہ باری کی ہے۔

مرکزی حکومت نے پاکستانی سفارتکاروں کو 48 گھنٹوں میں ہندوستان چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔ اس فیصلے کے تحت اٹاری بارڈر چیک پوسٹ بھی بند کردئے گئے ،جس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان زمینی رابطہ ختم ہو چکا ہے۔

بھارت چٹاگانگ بندرگاہ پر ہونے والی سرگرمیوں پر کافی عرصے سے نظر رکھے ہوئے ہے۔ کئی بار بھارت یہاں سے قابل اعتراض اشیاء بھی ضبط کر چکا ہے۔ اب پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتے ہوئے سمندری تجارتی تعلقات بھارت کی قومی سلامتی کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یوپی حکومت کے الزامات کے بارے میں بات کریں تو بتادیں کہ نوئیڈا-غازی آباد میں کوالیٹی انڈیکس 300سے زیادہ ہے جبکہ لاہور، پاکستان میں اے کیو آئی لیول گزشتہ پیر کو 700 سے زیادہ تھا۔ جو کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے مقرر کردہ گائیڈ لائنز سے تقریباً 65 گنا زیادہ ہے۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کا بیان سامنے آیاہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ تعلقات پر بھی بات کی۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارتی وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کو ایک ’آغاز‘ قرار دیا۔

ایس سی او اجلاس میں معیشت، تجارت، ماحولیات اور سماجی و ثقافتی روابط کے شعبوں میں جاری تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور تنظیم کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ تنظیم کے رکن ممالک باہمی تعاون کو مزید بڑھانے اور تنظیم کے بجٹ کی منظوری کے لیے اہم تنظیمی فیصلے کریں گے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا قیام سال 2001 میں عمل میں آیا تھا۔ ہندوستان 2005 سے اس تنظیم کا رکن تھا لیکن 2017 میں ہندوستان اس کا مستقل رکن بن گیا۔ سال 2017 میں ہی پاکستان اور ایران نے بھی ایس سی او کی رکنیت حاصل کی تھی۔ یہ تنظیم ممالک کی سیاست، معیشت، ترقی اور فوج سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرتی ہے۔