Urdu Conclave 2026

governance dispute

جم خانہ کلب کے ایک رکن نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے حکومت کے اس نوٹس کو چیلنج کیا ہے، جس میں کلب کو صفدرجنگ روڈ واقع 27.3 ایکڑ پر مشتمل احاطہ 5 جون تک خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے الزام لگایا ہے کہ مرکز ’’قانونی عمل کے بغیر‘‘ ایگزیکٹو نوٹس کے ذریعے کلب کو زبردستی بے دخل کرنا چاہتا ہے۔

ترنمول کانگریس نے بی جے پی پر شدید حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت کی گہری جڑوں والی ’بنگلہ مخالف ذہنیت‘ نے مغربی بنگال کو شدید محرومی میں مبتلا کر دیا ہے۔ٹی ایم سی نے مرکز پر تقریباً دو لاکھ کروڑ روپے روکنے کا الزام عائد کیا اور وزیر اعظم کے بیانات کو ’مگرمچھ کے آنسو‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔

چار سال قبل دہلی جم خانہ کلب پر بدعنوانی کا الزام لگا کر اس کا انتظام سنبھالنے والی کارپوریٹ امور کی وزارت آخر ایک بھی معاملے کی تحقیقات کیوں نہیں کر پائی؟ کیا وجہ ہے کہ سرکاری پیسے سے عیش کرنے والے سابق بیوروکریٹس اور سیاست دان آج بھی جم خانہ سے چپک کر رہنا چاہتے ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ NCLAT بھی اس تنازعہ کا حصہ بنتا جا رہا ہے؟