کیا کرپشن کے خاتمے کے لیے جم خانہ کلب میں تعینات حکومتی نمائندے خود بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں! سوال سنجیدہ ہے لیکن الزامات اور کارناموں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ حکومت خود سوالوں کی زد میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کرپشن کی تحقیقات کے لیے سابق بیوروکریٹس اور من پسند افراد کو تعینات کرتی ہے یا چاپلوسی کے عوض انہیں بھی ایسا ہی کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے؟ سوال بے حد تیکھے ہیں لیکن وجہ بھی بالکل جائز ہے۔ کیونکہ چار سال قبل کارپوریٹ امور کی وزارت نے جم خانہ کلب پر بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کا الزام لگا کر اس کا انتظام سنبھال لیا تھا۔ وہ بھی اس لیے تاکہ معاملوں کی تحقیقات کرکے کارروائی کی جاسکے۔ لیکن آج تک جانچ کرنا تو دور کی بات ہے، خود وزارت کے مقرر کردہ سابق بیوروکریٹس اور رہنما بھی کرپشن کے الزامات کی زد میں آ چکے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود اب حکومتی نمائندے یہاں الیکشن کرانے میں ٹال مٹول کرتے نظر آرہے ہیں۔ سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ این سی ایل ٹی اور این سی ایل اے ٹی بھی جان بوجھ کر حقائق کو نظر انداز کر رہی ہےاور اس کا فائدہ ملزمین کو مل رہا ہے۔
یہ ہے معاملہ
دہلی جم خانہ کلب میں بدعنوانی کے سنگین الزامات کے بعد، مرکزی حکومت کی کارپوریٹ امور کی وزارت کے دلائل پر فروری 2021 میں اس کا انتظام مرکز کے ہاتھ میں آگیا۔ جس کے بعد یہاں تعینات ایڈمنسٹریٹرز پر کرپشن کے الزامات لگے اور انہیں یہاں سے ہٹا دیا گیا۔ اپریل 2022 میں یہاں ایک نیا بورڈ مقرر کیا گیا اور انٹیلی جنس بیورو کے ریٹائرڈ افسر ملے سنہا کو اس کا سربراہ بنایا گیا۔ لیکن ان کے دور میں کلب کے پیسے کی بے قاعدگیوں اور بے جا خرچ کے اتنے الزامات سامنے آئے کہ خود حکومت کی شبیہ بھی داغدار ہونے لگی۔
قانونی لڑائیوں میں کروڑوں ہوئے خرچ
یہ بھی الزام ہے کہ ملےسنہا نے اپنی تقرری سے لے کر اب تک قانونی معاملات میں اپنی موقف پیش کرنے کے لیے تقریباً چھ کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔ یہ بھی الزام ہے کہ وکلاء کو دی جانے والی فیس میں بے ضابطگی ہورہی ہے۔ لیکن انتظامیہ اب تک کسی بھی معاملے میں ایسا کچھ نہیں کر پائی ہے کہ وہ مرکز کے ان الزامات میں سے کسی ایک کو ثابت کر سکے، جس کی بنیاد پر کلب کا انتظام حکومت کے ہاتھ میں آیا تھا۔
سرکاری انتظامیہ ناکام
این سی ایل اے ٹی نے سرکاری نمائندوں کو 30 جون تک کلب کے انتخابات کرانے اور انتظام نئی کمیٹی کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔ خیال کیا جارہا ہے کہ موجودہ سرکاری انتظامیہ کی نااہلی اور بدعنوانی کے معاملوں کی جانچ میں غفلت کی وجہ سے اس طرح کے حالات پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن دو بار اے جی ایم میں دھاندلی کا الزام لگانے والے سرکاری نمائندوں میں شامل سابق بیوروکریٹس جونک کی طرح کلب سے چمٹے رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ الزام ہے کہ قانونی جھگڑوں میں کروڑوں روپے خرچ کرنے کے دوران ہونے والا نجی فائدہ اور سرکاری خرچ پر مزے کرنے کی عادت اس کی اصل وجہ ہے۔
سب سے بڑا کھیل
جنوری 2025 میں سپریم کورٹ نے جم خانہ کی سرکاری انتظامیہ کو توہین عدالت کی کارروائی کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔ لیکن این سی ایل ٹی نے 27 مارچ اور 24 اپریل کو جم خانہ سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران اس کا نوٹس نہیں لیا۔ اتنا ہی نہیں جسٹس اشوک بھوشن کی سربراہی والی NCLAT نے بھی فروری اور مارچ میں سپریم کورٹ کے توہین عدالت نوٹس کو ریکارڈ پر درج کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ اس سے حیران ہو کر کارپوریٹ امور کی وزارت کے افسران بھی بحث کر رہے ہیں کہ کیا NCLT اور NCLAT کا یہ کام کرنے کا انداز سپریم کورٹ کو کم تر باور کرنے کی کوشش ہے؟
الیکشن کرانے میں پس وپیش
کلب میں تعینات کیے گئے سابق آئی پی ایس ملے سنہا ابھی کلب کی کمان چھوڑنے کو تیار نظر نہیں آرہے۔ 31 مارچ تک انتخابات کرانے کے حکم کے بعد، انہوں نے کلب کے متنازع سیکرٹری کے ساتھ مل کر این سی ایل اے ٹی میں اپنی سروس میں توسیع کی درخواست دی۔ الزام ہے کہ سرکاری وکیلوں کے ذریعہ سپریم کورٹ کے توہین عدالت کے نوٹس سے آگاہ کرنے کے باوجود این سی ایل اے ٹی میں فروری اور 20 مارچ 2025 کو سروس میں توسیع کی درخواست کی سماعت ہوئی۔
سپریم کورٹ سے بھی دھوکہ دہی!
دراصل سپریم کورٹ میں جسٹس مہیشوری کی بنچ نے ملے سنہا کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا، لیکن انہوں نے اور کلب کے سکریٹری راجیو ہورا نے اس حقیقت کو چھپاتے ہوئے عدالت کی ایک اور بنچ میں نئی اپیل دائر کردی۔ حالانکہ عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سروس میں توسیع کی درخواست پرانے بنچ کے سامنے CA-395/2025 میں دائر کی جانی چاہیے تھی۔
توہین عدالت کے دو مقدمات زیر التوا
NCLAT کی طرف سے 21 اکتوبر 2024 کو دیئے گئے فیصلے کی توہین سے متعلق دو شکایتیں فی الحال اسی کے سامنے زیر التوا ہیں۔ کیس نمبر CC-22/2025 میں، NCLT اور NCLAT کے فیصلوں سے متعلق فوجداری اور سول توہین پر فیصلہ محفوظ رکھا ہواہے۔ جبکہ CC-21/2025، جو فرضی بلوں کے ذریعہ سے کلب سے کی گئی وصولی کے ملزم گورو لبرہان کے ذریعہ دائر کی گئی اس معاملے میں بھی جسٹس اشوک بھوشن نے 22 اگست کی تاریخ دے دی ۔ جس کے بعد یہ بحث تیزی سے پھیل رہی ہے کہ ملک کا کارپوریٹ جسٹس سسٹم اس قدر تنازعات کا مرکز کیوں بنتا جا رہا ہے جس میں وہ اپنے ہی حکم کی نافرمانی کرنے والوں پر مہربان نظر آرہا ہے۔؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

