India’s Role on Global Platforms: جی-20 کی صدارت سے گلوبل ساؤتھ کی آواز بننے تک، عالمی پلیٹ فارمز پر بھارت کا کردار مضبوط، سفارت کاری کا نیا مرکز بن کر ابھرا
تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی نظام میں بھارت خود کو بین الاقوامی سیاست اور سفارت کاری کے مرکز کے طور پر قائم کر رہا ہے۔ آج عالمی فورمز، علاقائی تنظیموں اور بین الاقوامی سربراہی اجلاسوں میں بھارت نہ صرف ایک اہم شریک کے طور پر موجود ہے بلکہ کئی معاملات میں ایجنڈا طے کرنے اور مختلف ممالک کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔
PM Modi And G20 Leaders Summit : جی-20 میں جنوبی افریقہ کی حمایت کے لیے عوام نے وزیراعظم مودی کا ادا کیا شکریہ، وزیراعظم کی قیادت کو افریقی عوام نے بھرپور سراہا
حال ہی میں جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں منعقدہ جی-20 سربراہی اجلاس کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت کو جنوبی افریقہ کے عوام نے بھرپور سراہا ہے۔ سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے وزیراعظم مودی کے لیے تشکر اور تعریف کے پیغامات کی بھرمار دیکھنے میں آئی، جہاں کئی صارفین نے انہیں جی-20 سمِٹ کا ’ایم وی پی‘ قرار دیا اور جنوبی افریقہ کے لیے ان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
PM Modi Met PM Of Netherlands : جی20 لیڈرز سمٹ کے دوران نیدرلینڈ کے وزیراعظم سے ملے پی ایم مودی، آبی وسائل، اختراع اور ٹیکنالوجی پر ہوئی گفتگو
جنوبی افریقہ کے جوہانسبرگ میں وزیراعظم نریندر مودی نے ’جی-20 لیڈرز سمٹ‘ میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے نیدرلینڈ کے وزیراعظم ڈک اسکوف سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان آبی وسائل، اختراع اور ٹیکنالوجی جیسے اہم موضوعات پر گفتگو ہوئی۔
PM Modi Posting Pictures of IBSA : ’انسٹی ٹیوشنل ریفارمز اب اختیاری نہیں، ضروری ہیں‘، آئی بی ایس اے کی تصاویر پوسٹ کرکے وزیراعظم مودی نے کہا- ’ہمارا رشتہ دل سے جڑا ہوا ہے‘
وزیراعظم نریندر مودی نے جنوبی افریقہ کے جوہانسبرگ میں منعقدہ جی20 لیڈرز سمٹ کے تیسرے سیشن سے خطاب کیا۔ اس کے بعد وزیراعظم مودی نے اتوار کو بھارت۔برازیل۔جنوبی افریقہ ڈائیلاگ فورم (آئی بی ایس اے) لیڈرز سمٹ میں حصہ لیا۔
G20 Summit PM Modi Leads Strongly : کامیاب رہا جی20 اجلاس: امریکی بائیکاٹ بے اثر، پی ایم مودی نے مضبوطی سے کیا لیڈ
جنوبی افریقہ میں جی20 سربراہی اجلاس کئی لحاظ سے تاریخی رہا۔ پی ایم مودی نے اس کانفرنس میں ترقی پذیر ممالک کی آواز مضبوطی سے بلند کی۔
PM Modi – Australia and Canada : وزیرِ اعظم مودی نے آسٹریلیا، کینیڈا کے ساتھ نئی سہ فریقی ٹیکنالوجی اور اختراعی شراکت داری کا کیا اعلان
جی-20 لیڈرز سمٹ کے موقع پر وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ہفتہ 22 نومبر 2025 کو آسٹریلیا اور کینیڈا کے درمیان ایک نئی سہ فریقی ٹیکنالوجی اور انوویشن شراکت داری کے قیام کا اعلان کیا۔ یہ اعلان مودی کی آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز اور کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کے بعد کیا گیا۔
PM Modi and G20 Summit : جی-20 سمٹ میں وزیراعظم مودی کا عالمی ترقی کے پیمانوں پر زور، عالمی ہیلتھ کیئر ریسپانس ٹیم سمیت تین اہم اقدامات کی تجویز
جنوبی افریقہ کے جوہانسبرگ میں جی20 سمٹ کا آغاز ہو گیا ہے، جہاں افتتاحی سیشن میں ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی نے ایک جامع اور پُرجوش خطاب کیا۔ ’جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی‘ کے موضوع پر منعقد سیشن کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے عالمی ترقی کے روایتی پیمانوں پر گہری نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا اور ترقی کے ایسے نئے ڈھانچے کی وکالت کی جس میں انسان، ماحول اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو مرکزی مقام حاصل ہو۔
PM Modi Welcomed Warmly By President Ramaphosa : وزیر اعظم مودی نے جوہانسبرگ میں جی20 سمٹ میں کی شرکت، صدر سيريل رامافوسا نے گرم جوشی سے کہا خوش آمدید
وزیر اعظم نریندر مودی نے جوہانسبرگ کے ناسریک میں منعقدہ جی20 لیڈرز سمٹ میں شرکت کی، جہاں انہیں جنوبی افریقہ کے صدر سیریل رامافوسا نے نہایت گرمجوشی کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ دو روزہ سمٹ 22 اور 23 نومبر کو ہوگا، جس میں عالمی لیڈروں نے اہم بین الاقوامی مسائل، ترقی کے اہداف اور باہمی تعاون کے نئے فریم ورک پر بات چیت کی۔
PM Modi Landed In Johannesburg : وزیراعظم مودی کے جوہانسبرگ پہنچنے پر شاندار استقبال، جی20 سربراہی اجلاس میں کریں گے شرکت
وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کو جوہانسبرگ پہنچے، جہاں ان کا شاندار اور روایتی انداز میں استقبال کیا گیا۔ ایئرپورٹ پر انہیں ثقافتی مظاہرے کرنے والی ٹیم نے خوش آمدید کہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر ان کے لیے کتنی عزت و احترام قائم ہے۔
How India’s Biofuel Diplomacy Is Reshaping Global Power: کس طرح عالمی طاقت کو نئی شکل دے رہی ہے ہندوستان کی بائیو فیول ڈپلومیسی
مغربی ممالک کی قیادت میں شروع ہونے والی متعدد ماحولیاتی پہل کاریوں کے برعکس، GBA ٹیکنالوجی کے تبادلے، مہارتوں کے فروغ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان علم کے تبادلے پر زور دیتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ توانائی کے حل مقامی ضروریات سے ہم آہنگ اور سستے ہونے چاہئیں۔





