Bharat Express DD Free Dish

Entertainment News

چند روز قبل سوشل میڈیا پر ایک آڈیو کلپ تیزی سے وائرل ہوئی تھی، جس میں بولنے والے شخص نے خود کو آرزو بشنوئی بتایا اور عامر خان کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے انہیں "سبق سکھانے" کی بات کہی تھی۔ اس آڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد ممبئی پولیس نے فوری طور پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

شگن کے اس فیصلے پر روہت شیٹی نے ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر اسٹنٹ کو تیار کرنے میں کئی گھنٹوں کی محنت لگتی ہے، اس لیے کم از کم اسے انجام دینے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے تھی۔ بعد ازاں شگن اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے جذباتی ہو گئیں، جبکہ شریک کنٹسٹنٹ روبینا دلیق نے بھی انہیں یہ تسلیم کرنے کا مشورہ دیا کہ انہوں نے اسٹنٹ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔

اداکاری کے ساتھ ساتھ مینا کماری ایک بہترین شاعرہ بھی تھیں۔ وہ اردو میں شاعری کرتی تھیں اور ان کے اشعار میں تنہائی، محبت، درد اور زندگی کے مختلف تجربات کی جھلک نمایاں ہوتی تھی۔ سفید رنگ سے ان کی محبت ان کی شاعرانہ اور حساس شخصیت کی بھی عکاسی کرتی تھی، اسی لیے وہ اکثر تقریبات اور عوامی مواقع پر سفید ساڑھی میں دکھائی دیتی تھیں۔ آج بھی ان کی سفید ساڑھی والی تصاویر مداحوں میں بے حد مقبول ہیں۔اپنی غیر معمولی اداکاری کے اعتراف میں مینا کماری کو متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔

تعلیم کے دوران انہیں ایک ٹی وی سیریل میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی۔ ابتدا میں ان کے اہلِ خانہ اس فیصلے کے حق میں نہیں تھے اور چاہتے تھے کہ وہ پہلے اپنی تعلیم مکمل کریں، لیکن مرنال نے انہیں قائل کیا اور اداکاری کی دنیا میں قدم رکھ دیا۔ انہوں نے 2012 میں ٹی وی سیریل "مجھ سے کچھ کہتی... یہ خاموشیاں" سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا، جس کے بعد وہ "ارجن" میں بھی نظر آئیں۔ انہیں حقیقی شہرت زی ٹی وی کے مقبول ڈرامے "کمکم بھاگیہ" میں بلبل اروڑا کے کردار سے ملی،

سیرت کپور نے موجودہ دور میں فنکاروں کو درپیش چیلنجز پر بھی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر اداکار کی خواہش ہونی چاہیے کہ لوگ اسے اس کے اچھے کام کی وجہ سے یاد رکھیں، نہ کہ صرف عارضی شہرت یا سوشل میڈیا کی مقبولیت کی بنیاد پر۔انہوں نے کہا، "مقبولیت اور خبروں میں رہنا وقتی ہو سکتا ہے، "

اپنے مستقبل کے خواب کے بارے میں بات کرتے ہوئے جیوتِرمئی نائک نے کہا، "میں مستقبل میں اریجیت سنگھ اور شریا گھوشال کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں۔ ان دونوں عظیم فنکاروں کے ساتھ گانا میرے لیے کسی خواب کے پورا ہونے سے کم نہیں ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ ایک دن میرا یہ خواب ضرور حقیقت بنے گا۔"اریجیت سنگھ کا شمار بھارت کے مقبول ترین گلوکاروں میں ہوتا ہے۔

سانوی تلوار نے ٹی وی شو ’’یہ کہاں آ گئے ہم‘‘ میں اداکار کرن کندرا کے ساتھ کام کیا تھا۔ اسی دوران انہوں نے کرن کندرا پر مبینہ طور پر نامناسب رویے کے الزامات عائد کیے تھے۔ سانوی کا دعویٰ تھا کہ شوٹنگ کے دوران کرن کندرا نے ان کی رضامندی کے بغیر انہیں بوسہ دیا اور تھپڑ بھی مارا۔ اس وقت اس معاملے میں شو کی پروڈیوسر ایکتا کپور نے مداخلت کی تھی،

فلم میں خوشالی کمار کے ساتھ سینئر اداکار مہیش مانجریکر اور معروف اداکار پیوش مشرا بھی اہم کرداروں میں نظر آئیں گے۔ تجربہ کار اور باصلاحیت فنکاروں کے ساتھ کام کرنا خوشالی کے سوچے سمجھے فلمی انتخاب کی عکاسی کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے کیریئر میں معیاری سینما کو ترجیح دے رہی ہیں۔خوشالی کمار ایسے وقت میں مختلف نوعیت کے کردار ادا کر رہی ہیں،

انہوں نے مزید کہا کہ اس فرنچائز نے نہ صرف انہیں بلکہ پوری کاسٹ کو ایسی شناخت دی، جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ان کے مطابق ناظرین نے صرف کہانی کو ہی پسند نہیں کیا بلکہ ہر کردار کے ساتھ جذباتی تعلق بھی قائم کر لیا۔ شویتا نے بتایا کہ آج بھی بہت سے لوگ انہیں ان کے اصل نام سے کم اور "گولو دیدی" کے نام سے زیادہ جانتے ہیں، جو ان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔

اپنے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیا مرزا نے کہا، "میرا کردار اس کہانی میں ایک اینکر کی طرح ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے خواتین کو متحد رکھا اور انہیں ایک طاقت کے طور پر جوڑے رکھا۔ جب ان کے شوہر مشن پر ہوتے تھے، اس وقت ان خواتین کے لیے ان حالات کا سامنا کرنا کیا معنی رکھتا تھا،