Bharat Express DD Free Dish

economic growth

وزیراعظم نے کہا کہ جیسے آزادی کی تحریک کو سودیشی کے منتر سے طاقت ملی تھی، ویسے ہی خوشحالی کی راہ بھی سودیشی کے منتر سے مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس بوجھ کم ہونے سے صنعت کاروں اور ہنرمندوں کو دوہرا فائدہ ملے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ 2017 میں جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد ملک نے ’’ون نیشن، ون ٹیکس‘‘ کا دیرینہ خواب پورا کیا۔ انہوں نے پرانے زمانے کی مشکلات کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ایک شہر سے دوسرے شہر مال بھیجنے میں درجنوں ٹیکس اور چیک پوسٹس کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اب یہ بوجھ ختم ہوچکا ہے اور عوام کو سستی قیمتوں پر سامان دستیاب ہوگا۔

شہروں میں رہائش پزیرلوگوں سے آگے بڑھیں تو دیہی ہندوستان کے لئے بھی یہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔ آبپاشی کے نظام ، کمپوسٹنگ مشینوں اور ٹریکٹروں ، کسانوں کے لیے لاگت میں آسانی اور پائیدار طریقوں کو آگے بڑھانے جیسی بڑی مصنوعات پر جی ایس ٹی کی شرح 5فیصدکئے جانے کی وجہ سے زراعت کو فروغ ملا ہے۔

جی ایس ٹی پر مودی حکومت کی کامیابی، وزیر داخلہ نے کہا—وزیراعظم مودی نے ریاستوں کو ریونیو کی ضمانت دے کر اعتماد بحال کیا، بھارت کی معیشت اور عالمی وقار میں اضافہ کیا

تاجروں میں آگاہی مہم کی تیاری، ہررکن پارلیمنٹ کو 20 سے 30 تجارتی کانفرنسیں منعقد کرنے اور دیوالی و نوراتری پر ’سودیشی میلے‘ لگانے کی ہدایت

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ 12 فیصد اور 18 فیصد کے ٹیکس سلیب کو 5 فیصد اور 18 فیصد کے دوہرے ڈھانچے میں ضم کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ’’اگلی نسل کی جی ایس ٹی اصلاحات‘‘ کا حصہ ہے، جس کا مقصد سستی، کھپت اور معاشی کارکردگی میں اضافہ ہے۔

اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جون 2025 میں بھارت کی امریکی ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری گزشتہ سال کے مقابلے میں کم رہی۔ پھر بھی بھارت امریکی ٹریژری بلز کے 20 بڑے عالمی سرمایہ کاروں میں شامل ہے، اور اس کے پاس جون 2025 میں 227 ارب ڈالر کے بلز تھے، جو جون 2024 میں 242 ارب ڈالر تھے۔ یہ حجم سعودی عرب اور جرمنی سے زیادہ ہے۔

سیاسی استحکام اور مؤثر پالیسی نفاذ بھارت کی خودمختار پروفائل کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، بلند شرح نمو، جدید انفراسٹرکچر، مستحکم بیرونی کھاتے اور مضبوط مالیاتی شعبہ بھارت کے کریڈٹ پروفائل کو سہارا دے رہے ہیں۔

پی ایم مودی نے عالمی معیشت میں بڑھتی ہوئی "معاشی خودغرضی" کی مذمت کی اور بھارت کی خود انحصاری پالیسیوں کو اجاگر کیا، جو مقامی پیداوار اور اعلیٰ معیار کے سامان کی تیاری پر زور دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی اصلاحات عالمی معیشت کو سہارا دینے کے لیے تیار ہیں۔

ابتدائی سال میں یہ کارگو ٹرین پائلٹ بیس پر چلائی جائے گی۔ جموں و کشمیر پولیس دونوں اطراف پر سکیورٹی کے انتظامات کرے گی۔ ریلوے کے مطابق یہ سڑک کے سفر کے مقابلے میں زیادہ اقتصادی آپشن ثابت ہوگی کیونکہ رجسٹریشن فیس کم کر دی گئی ہے۔