Bharat Express DD Free Dish

DK Shivakumar

ڈی کے شیوکمار نے بھی سِدارامیا کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جب سِدارامیا وزیر اعلیٰ ہیں تو قیادت کے معاملے پر کوئی اختلاف کی ضرورت نہیں۔ تاہم، انہوں نے اپنی حمایت کے ساتھ ایک محتاط لہجہ اختیار کیا اور کہا، "میرے پاس اور کیا آپشن ہے؟ مجھے ان کی حمایت کرنی ہے۔

راہل گاندھی کی سالگرہ کے موقع پر انڈین یوتھ کانگریس کی جانب سے نئی دہلی کے تال کٹورا اسٹیڈیم میں ایک روزگار میلہ بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔

اس پورے معاملے نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے۔ بی جے پی اور کانگریس کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ شیوکمار نے اپنے موقف پر ڈٹ کر کہا کہ وہ آئین کا احترام کرتے ہیں اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔

بی جے پی کے اراکین اسمبلی نے چار فیصد کوٹہ والے  بل کی کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر کی طرف پھینک دیں۔ بی جے پی اس بل کو 'غیر آئینی' قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کر رہی ہے۔پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس بل کو قانونی طور پر چیلنج کرے گی۔

کرناٹک کے دارالحکومت بنگلورومیں کوڑا بحران گہراتا جا رہا ہے۔ نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اراکین اسمبلی پر800 کروڑ روپئے کے ترقیاتی فنڈ کا مطالبہ کرنے اور بلیک میل کرنے کا الزام لگایا ہے۔ شہر میں کچرے کے انتظام میں بدعنوانی اور مافیا کے کردارپر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے صحافیوں سے کہا کہ رپورٹنگ کرتے وقت معاشرے اور اپنے ضمیر کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے کہا، ’’ان دنوں قیاس آرائیوں پر مبنی صحافت مرکز میں ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔

ذرائع کا خیال ہے کہ کملا ہیرس گزشتہ چند مہینوں سے ڈی کے شیوکمار کے ساتھ رابطے میں ہیں۔حالانکہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس کا مقصد کیا ہے، لیکن یاد رہے کہ گزشتہ دنوں کملا ہیرس نے راہل گاندھی سے بھی فون پر بات کی تھی اور حالیہ دنوں ہندوستان میں امریکی سفیر ایرک گارسیٹی نے کانگریس صدر سے ملاقات کی تھی۔

 انفوسس کے سابق سی ایف او موہن داس پائی نے حکومت کے اس فیصلے کو 'غیر آئینی'، 'غیر ضروری' اور یہاں تک کہ 'فسطائی' قرار دیا۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بل غیر آئینی ہے۔ کیونکہ یہ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت امتیازی سلوک کرتا ہے۔

ڈی کے شیوکمار نے اس سے قبل سی بی آئی کیس کو منسوخ کرانے کے لیے کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جس پر سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے ریلیف دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ رام نگر کو ضلع ہیڈکوارٹر کے طور پر برقرار رکھتے ہوئے رام نگر کا نام تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے اس سلسلے میں ایک تجویز پیش کی ہے۔ نام تبدیل کرنے سے صنعتوں کو ضلع میں لانے میں مدد ملے گی اور زمین کو بچانے میں مدد ملے گی۔