آج کرناٹک اسمبلی میں زبردست ہنگامہ دیکھنےکو ملا ہے۔ تاہم، اس ہنگامے کے درمیان، سرکاری ٹھیکوں میں اقلیتوں کے لیے چار فیصد ریزرویشن فراہم کرنے والا بل پاس ہو گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزراء اور ایم ایل ایز کی تنخواہ سے متعلق بل بھی پاس ہو گیا ہے۔ ایوان میں جاری ہنگامہ آرائی کے درمیان یہ دونوں بل منظور کرالئے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق وزیر اعلیٰ کی تنخواہ 75 ہزار روپے سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ وزراء کی تنخواہ 60 ہزار روپے سے بڑھا کر 1.25 لاکھ روپے کر دی جائے گی۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایم ایل اے کی تنخواہ 40 ہزار سے بڑھا کر 80 ہزار کرنے کی تجویز ہے۔
بل کی کاپی پھاڑ کر اسپیکر پر پھینک دی
ادھر دوسری جانب بی جے پی کے اراکین اسمبلی نے چار فیصد کوٹہ والے بل کی کاپیاں پھاڑ کر اسپیکر کی طرف پھینک دیں۔ بی جے پی اس بل کو ‘غیر آئینی’ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کر رہی ہے۔پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس بل کو قانونی طور پر چیلنج کرے گی۔ بی جے پی ممبران اسمبلی بل کی منظوری کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے اسپیکر کی طرف آئے۔ دوسری جانب کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ بل اقلیتی برادری کو سماجی انصاف اور معاشی مواقع فراہم کرے گا۔
ادھرکرناٹک کے وزیر کے این راجنا کے ایک دعوے نے کرناٹک کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ تعاون کے وزیر کے این راجنا نے ایوان کو بتایا کہ ریاست میں 48 لوگ “ہنی ٹریپ” کا شکار ہو چکے ہیں اور ان کی فحش ویڈیوز کو گردش کر دیا گیا ہے۔ راجنا نے کہاکہ لوگ کہتے ہیں کہ کرناٹک میں ایک فیکٹری ہے جو سی ڈیز (کومپیکٹ ڈسک) اور پین ڈرائیوز تیار کرتی ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ ریاست میں 48 لوگوں کے پاس سی ڈی اور پین ڈرائیوز دستیاب ہیں۔ یہ نیٹ ورک پورے ہندوستان میں پھیلا ہوا ہے اور کئی مرکزی وزیر بھی اس کا شکار ہو چکے ہیں۔کرناٹک کے سی ایم نے کہا کہ ایسے میں کسی کو بچانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ وزیر داخلہ نے جواب دیا کہ اگر راجنا نے شکایت کی ہے تو اعلیٰ سطحی جانچ کرائی جائے گی۔ راجنا نے کسی کا نام نہیں لیا، اگر کسی کا نام لیا ہوتا تو کارروائی ہو سکتی تھی۔ اس معاملے میں کسی کو بچانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

