Semicon 2.0 Scheme: وزیراعظم مودی کی قیادت میں کابینہ نے ’سیمی کون 2.0‘ اسکیم کو کیا منظور، سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور چپ ڈیزائن کو ملے گا بڑا فروغ
حکومت کے مطابق اب تک 12 سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹس کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری تجویز کی گئی ہے۔ ان منصوبوں میں ایک سلیکون فیب، ایک سلیکون کاربائیڈ فیب، ایک انٹیگریٹڈ گیلیم نائٹرائیڈ مائیکرو ایل ای ڈی ڈسپلے فیب اور نو پیکیجنگ یونٹس شامل ہیں۔
India’s Manufacturing Ecosystem: ’چپس سے لے کر شپس تک‘ مضبوط مینوفیکچرنگ ایکو سسٹم بنا رہا ہے بھارت، 6-جی ٹیکنالوجی پر بھی تیزی سے کام جاری: وزیراعظم مودی
وزیراعظم نے 2014 میں اپنے پہلے دورۂ آسٹریلیا کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ 28 برس بعد کسی بھارتی وزیراعظم کا پہلا دورہ تھا۔ اس وقت انہوں نے بھارتی برادری سے کہا تھا کہ اگلے دورے کے لیے انہیں مزید 28 برس انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا ’’گزشتہ 12 برسوں میں یہ میرا آسٹریلیا کا تیسرا دورہ ہے۔ ایک طرح سے یہ ہیٹ ٹرک ہے۔
FCRA 2.0 Portal: وزیرداخلہ امت شاہ نے ایف سی آر اے 2.0 پورٹل اور ای۔او سی آئی نظام کا کیا افتتاح، غیرملکی عطیات کے ضابطے کو مزید مؤثر بنانے کا اعلان
وزارت داخلہ کے مطابق ایف سی آر اے 2.0 پورٹل کو غیر ملکی عطیات (ضابطہ) ایکٹ (FCRA) کے تحت ضابطوں پر عمل درآمد کو آسان بنانے اور نگرانی و نفاذ کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس نئے پورٹل کے ذریعے رجسٹریشن، تجدید، سالانہ گوشواروں اور دیگر تمام خدمات کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنا دیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق ملک میں اس وقت تقریباً 14 ہزار 500 فعال ایف سی آر اے تنظیمیں ہیں۔
Education Crisis in Digital India: بھنڈارا میں تعلیم کا ’بیڑا غرق‘: 50 اسکولوں میں ایک بھی استاد نہیں، برباد ہو رہا ہے معصوم بچوں کا مستقبل
مہاراشٹر کے ضلع بھنڈارا میں تعلیمی نظام پوری طرح سے درہم برہم ہو چکا ہے۔ ضلع کے 50 ضلع پریشد اسکول ایسے ہیں جہاں ایک بھی استاد تعینات نہیں، جبکہ پورے ضلع میں تقریباً 800 اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ ایسے میں مودی حکومت کی ’ڈیجیٹل انڈیا‘ اور معیاری تعلیم کے دعووں کی زمینی حقیقت نہایت تشویشناک نظر آتی ہے۔
India’s Digital Public Infrastructure:وزیراعظم مودی کی نیدرلینڈز کی ملکہ میکسیما سے ملاقات، بھارت کے ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر پر تبادلۂ خیال
مالی شمولیت اور ڈیجیٹل ترقی پر تفصیلی گفتگو، وزیراعظم نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل انقلاب سے مالیاتی خدمات زیادہ آسان اور کم خرچ ہوئی ہیں، بھارت اپنا تجربہ دنیا کے شراکت دار ممالک کے ساتھ بانٹنے کے لیے پُرعزم ہے۔
Balidan Diwas: بلیدان دیوس پر خصوصی خراج عقیدت: سیاما پرساد مکھرجی کا وژن— مودی حکومت نےایک بھارت کے خواب کو کیسے نئی جہت دی؟
وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کا مؤقف ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں کئی ایسے فیصلے کیے گئے ہیں جو ڈاکٹر مکھرجی کے نظریات سے ہم آہنگ ہیں۔ ان میں سب سے اہم اقدام 5 اگست 2019 کو آرٹیکل 370 کی منسوخی کو قرار دیا جاتا ہے، جس کے بعد جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی۔
Aadhaar App: نئے آدھار ایپ کے ڈاؤن لوڈز پانچ ماہ سے بھی کم عرصے میں 3.1 کروڑ سے تجاوز، 40 لاکھ صارفین نے موبائل نمبر کیا اپ ڈیٹ کیا
حکومت کے مطابق بھارتی منفرد شناختی اتھارٹی (UIDAI) کی یہ پیش رفت محفوظ، صارف کی رضامندی پر مبنی اور مکمل طور پر پیپر لیس شناختی تصدیقی نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس نظام میں آدھار کی تصدیق کے لیے مرکزی ڈیٹا بیس تک فوری رسائی کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے صارفین کی رازداری اور ڈیٹا سکیورٹی مزید مضبوط ہوتی ہے۔
Digital India Reality: کچے مکان میں ’ڈیجیٹل انڈیا‘! ہزاری باغ میں آزادی کے 78 سال بعد بھی مٹی کے گھر سے چل رہا ہے ڈاک خانہ
جھارکھنڈ کے ضلع ہزاری باغ کے ٹاٹی جھریا بلاک میں واقع پرٹنگا ڈاک خانہ آج بھی آزادی کے 78 سال بعد مٹی کے ایک کچے مکان سے چل رہا ہے۔ بارش کے موسم میں اہم سرکاری دستاویزات اور ریکارڈ بھیگنے کا خطرہ رہتا ہے، جبکہ مقامی دیہی باشندے جدید ڈیجیٹل سہولیات اور ایک مستقل پکے ڈاک خانے کی عمارت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
India’s Rising Startup Culture: ملک میں خود روزگار اور کاروباری کلچر فروغ پا رہا ہے، بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم: وزیراعظم
وزیراعظم نے کہا کہ اس تبدیلی میں خواتین کا کردار بھی مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک کی نوجوان نسل عالمی سطح پر مختلف شعبوں میں اپنی پہچان بنا رہی ہے اور یہی جذبہ عوامی خدمات میں بھی نظر آنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایسے نوجوانوں کی محنت سے ترقی یافتہ بنے گا، جو اپنے کام کو قوم اور عوام کی خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
India-Norway Agreement: وزیر اعظم مودی کے دورہ ناروے کے دوران 12 اہم معاہدوں پر اتفاق، ”ڈیجیٹل انڈیا“ مشن کو عالمی سطح پر فروغ دینے پر زور
سب سے اہم پیش رفت بھارت اور ناروے کے تعلقات کو ”گرین اسٹریٹجک پارٹنرشپ“ تک وسعت دینے کا فیصلہ ہے۔ اس شراکت داری کے تحت ماحولیاتی تحفظ، گرین انڈسٹری، سرکلر اکانومی، کلائمیٹ فنانسنگ اور صاف توانائی کے منصوبوں پر مشترکہ طور پر کام کیا جائے گا۔ اس تعاون سے ناروے کی جدید ٹیکنالوجی اور بھارت کی مینوفیکچرنگ صلاحیت کو یکجا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔





