Bharat Express DD Free Dish

Democratic Progressive Azad Party

غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس بار دو الیکشن کمشنروں نے چیف الیکشن کمشنر کے سامنے متعدد مرتبہ سوال اٹھائے اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ کہیں کوئی غلط عمل تو نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق دونوں کمشنروں نے اپنی تشویش سے چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کیا۔رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرنے، نئے ووٹروں کے نام شامل کرنے، فارم-6 میں تبدیلی اور ووٹر ڈیٹا کے انتظام سے متعلق معاملات شامل تھے۔

عمر عبداللہ اپنے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے لیے شمالی کشمیر کے گاندربل اسمبلی حلقہ پہنچے تھے۔ سری نگر سے گاندربل تک نیشنل کانفرنس کے کئی سینئر لیڈر اور پارٹی کارکنان ان کے ساتھ تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عمر عبداللہ وسطی کشمیر کی بڈگام سیٹ سے بھی اسمبلی الیکشن لڑ سکتے ہیں۔

غلام نبی آزاد کانگریس کے سینئر لیڈر رہ چکے ہیں۔ سال 2022 میں، انہوں نے کانگریس سے علیحدگی اختیار کی اور اپنی نئی پارٹی، ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی (DPAP) کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے اپنی پارٹی میں کئی کانگریسی لیڈروں کو شامل کیا جو اپنے اپنے شعبوں میں بااثر تھے۔ حالانکہ، حال ہی میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں ان کی پارٹی کی کارکردگی مایوس کن رہی۔

آزاد نے مخالفین کو 'اے'، 'بی'، یا 'سی' ٹیموں کے طور پر لیبل لگانے کے عمل پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا، ''جو لوگ کسی خاص شخص سے ڈرتے ہیں، وہ اس پر حملہ کرنے لگتے ہیں۔ اگر لوگ  مجھے ووٹ دیتے ہیں تو ووٹ دینے دیجئے۔ انہیں منتخب کرنے دیں کہ پارلیمنٹ میں ان کی نمائندگی کون کر سکتا ہے۔