Bharat Express DD Free Dish

Delhi Police

کرناٹک کے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمارکوای ڈی نے نیشنل ہیرالڈ معاملے میں نیا نوٹس جاری کرکے ینگ انڈین کوکئے گئے فنڈ ٹرانسفرکی تفصیل مانگی۔ شیوکمارنے اسے استحصال بتاتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ہی سبھی جانکاری دے چکے ہیں اوریہ صرف کانگریس لیڈران کوپریشان کرنے کی سازش ہے۔

شعیب اس معاملے میں گرفتار ساتواں ملزم ہے۔ اس سے قبل این آئی اے عمر کے چھ قریبی ساتھیوں کو گرفتار کرچکی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکے سے متعلق تمام شواہد اور مشتبہ افراد تک پہنچنے کے لیے متعدد ریاستوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ این آئی اے کا مقصد ہے کہ پورا دہشت گرد نیٹ ورک بے نقاب کیا جائے اور اس کے تمام اراکین کو گرفتار کیا جائے۔

شوریا کی موت کے بعد 20 اور 21 نومبر کو خاندان کے افراد، طلباء اور والدین نے اسکول کے گیٹ پر احتجاج کیا۔ بینرز پر لکھا ، اساتذہ نے میرے بیٹے کو مار ڈالا،

دہلی فسادات معاملے میں شرجیل امام کی ضمانت پر سپریم کورٹ میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ شاہین باغ احتجاج ٹرمپ کے دورے کے وقت ہی پلان کیا گیا، یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سازش تھی۔ اس کے ویڈیو ثبوت بھی پولیس نے پیش کیے۔

دہلی پولیس، این آئی اے اور ہریانہ پولیس اس معاملے کی مشترکہ تفتیش کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر محمد عمر کو اس دھماکے کا ممکنہ ماسٹر مائنڈ مانا جا رہا ہے اور ایجنسیاں یہ جاننے میں مصروف ہیں کہ آیا اس کے پیچھے کوئی بڑا بین الاقوامی نیٹ ورک تو سرگرم نہیں۔ تحقیقات کا دائرہ اب جموں و کشمیر، دہلی اور ہریانہ تک پھیل چکا ہے۔

دہلی کے تاریخی لال قلعہ کے قریب پیر 10 نومبر کی شام ہونے والے خوفناک دھماکے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اب اس واقعے کی تفتیش ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ تفتیشی ایجنسیاں اب اس معاملے کی ڈور فریدآباد کے دھوج علاقے تک لے گئی ہیں، جہاں الٰفلاح یونیورسٹی پولیس کے رڈار پر ہے۔

لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے پاس دھماکے کے بعد ہائی الرٹ پر ہے۔ اے ایس آئی نے لال قلعہ تین دنوں کے لئے بند کیا ہے جبکہ نیتا جی سبھاش مارگ عام لوگوں کے لئے بند کردیا گیا ہے۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دیویندر نے ہریانہ کے امبالا میں کسی کو کار بیچی تھی۔ امبالہ پولیس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ گروگرام پولیس تمام معلومات جانچ ایجنسی کے ساتھ شیئر کر رہی ہے۔

دہلی کے لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے نزدیک پیر کی شام زوردار دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں دس افراد ہلاک ہو گئے۔ دھماکے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے واقعے کی تفصیلات حاصل کیں۔

ملک کی راجدھانی دہلی کے جنتر منتر پر ایک مظاہرہ کرنے والے شخص نے خود کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔ وہیں مہیپال پور علاقے میں 23 سالہ خاتون کی مشتبہ موت سے سنسنی پھیل گئی۔ دونوں معاملات کی تحقیقات دہلی پولیس کر رہی ہے۔