Bharat Express DD Free Dish

Death Anniversary

ایک اور پوسٹ میں وزیراعظم  مودی نے لکھا، " آزادی کے سپوت شیام جی کرشن ورما کی زندگی سے ہمیں حوصلے اور جرات کی شاندار تحریک ملتی ہے۔ یہ ملک کے شہریوں میں اپنے فرائض کی انجام دہی کا جذبہ بھی پیدا کرتا ہے۔"

وزیر داخلہ امت شاہ نے سابق وزیر دفاع منوہر پریکر کی برسی پر انہیں ‘کٹر راشٹر وادی’ قرار دیتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پریکر کی سادگی، ایمانداری اور ملک کی خدمت کی وراثت آنے والی نسلوں کو مسلسل متاثر کرتی رہے گی…

بھارت کی پہلی خاتون معلمہ اور عظیم سماجی مصلح ساوتری بائی پھولے کو ان کی برسی کے موقع پر مختلف لیڈروں نے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ امت شاہ، یوگی آدتیہ ناتھ سمیت کئی وزرائے اعلیٰ نے انہیں خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی مساوات کی عظیم تحریک کا سرچشمہ قرار دیا۔

14 فروری 1933 کو دہلی میں پیدا ہونے والی مدھوبالا کا اصل نام ممتاز جہاں دہلوی تھا۔ بچپن ہی سے ان کی شخصیت میں ایک منفرد کشش موجود تھی جس نے فلم سازوں اور ناظرین دونوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے محض نو برس کی عمر میں فلم بسنت میں بطور چائلڈ آرٹسٹ اپنے کیریئر کا آغاز کیا،

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ان کی پہلی برسی پر ہم بھارت کی تعمیرِ نو میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بے مثال کردار کو گہرے احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔

سابق مرکزی وزیر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے ممتاز سول سرونٹ اور سابق صدر جمہوریہ کے پریس سکریٹری  مرحوم ایس ایم خان کی پہلی برسی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی۔

2014 سے 2019 تک بطور وزیر خارجہ، سشما سوراج نے بھارتی خارجہ پالیسی کو عوامی رنگ دیا۔ سوشل میڈیا کو ایک مؤثر ذریعہ بنا کر، بیرونِ ملک پھنسے بھارتیوں کی مدد کی۔ طبی ویزا، ایمرجنسی امداد، اور قونصل خدمات کے کئی معاملات میں انہوں نے ذاتی دلچسپی دکھائی۔

ڈاکٹر کلام کا انتقال نہ صرف بھارت کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک عظیم نقصان تھا۔ وہ ایک ایسے رہنما تھے جنہوں نے ہمیشہ نوجوانوں کو خواب دیکھنے اور اُنہیں پورا کرنے کی ترغیب دی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر لکھا:"ہمارے عزیز سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی یوم وفات پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتا ہوں۔

Bharat Ratna Bismillah Khan: دنیا میں شہنائی کو نئی پہچان دینے والے بسم اللہ خاں صاحب کے انتقال کو 17 سال ہوگئے ہیں، لیکن ان کی شہنائی کی گونج آج بھی ہمارے کانوں میں سنائی دیتی ہے۔