Bharat Express DD Free Dish

dairy industry

بیان کے مطابق پلانٹ کی تعمیر پر مجموعی طور پر 16.80 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس میں حکومت ہند کی جانب سے 6 کروڑ روپے کی گرانٹ اور بھوپال کوآپریٹو ملک یونین کی جانب سے 10.80 کروڑ روپے کی شراکت شامل ہے۔

رکشا بندھن سے قبل دہلی-این سی آر میں ایف ایس ایس اے آئی نے مٹھائی اور ڈیری مصنوعات کی جانچ کا عمل تیز کر دیا ہے۔ نوئیڈا، غازی آباد اور دہلی میں بڑی کارروائی کی گئی۔ نوئیڈا میں 100 کلوگرام رسگلے اور 300 کلوگرام پنیر، جبکہ غازی آباد میں تقریباً ایک ٹن رسگلے تلف کیے گئے۔ دہلی میں 131 کلوگرام میعاد سے زائد غذائی اشیا کو بھی تلف کر دیا گیا۔

حکومت کے مطابق ہندوستان نے 2024-25 میں 248 ملین میٹرک ٹن دودھ پیدا کیا، جبکہ 2014-15 میں یہ پیداوار 146 ملین میٹرک ٹن تھی۔ اس طرح گزشتہ دس برسوں کے دوران دودھ کی پیداوار میں تقریباً 69 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے اس اضافے کا سہرا نسل کی بہتری، جینیاتی اصلاح، مفت مصنوعی تخم ریزی، جنس کے لحاظ سے چھانٹے گئے سیمن اور اِن وٹرو فرٹیلائزیشن (IVF) جیسے اقدامات کو دیا ہے۔ 

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد بنگال میں ترقی کے نئے دور کا آغاز، عوامی جدوجہد اور وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری کی قیادت میں ’سونار بنگلہ‘ کا خواب پھر زندہ ہوگیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ یکم مئی کو اپنے لداخ دورے کے دوسرے دن دیہی اور ڈیری ترقی سے متعلق کئی بڑے منصوبوں کا افتتاح بھی کریں گے۔

وزیراعظم نے اپنے ریڈیو پروگرام من کی بات کے 133ویں ایپی سوڈ میں کہا کہ بھارت میں کھانے کی روایت صرف ذائقے تک محدود نہیں بلکہ اس میں ثقافتی تنوع بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’چیز بھی ہماری روایت کا ایک دلچسپ حصہ ہے‘‘ اور بھارت میں اس کی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق ’’بھارت کا ذائقہ اب دنیا بھر کی پلیٹوں تک پہنچ رہا ہے۔‘‘

امت شاہ، جن کے پاس تعاون کا قلمدان بھی ہے، نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں، اس وزارت نے تمام ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے کوآپریٹو نظام کی مضبوط بنیاد رکھی ہے۔

منصوبے پر تقریباً 350 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے اور اس کا مقصد دودھ پیدا کرنے والے کسانوں کی فلاح ہے۔ 350 کروڑ کی لاگت سے بنا منصوبہ، دہلی-این سی آر کی ضروریات کو پورا کرے گا۔

اگرچہ دودھ پاؤڈر کی برآمد میں کمی آئی، لیکن فرمنٹڈ دودھ اور مکھن/گھی کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ برآمد کیے جانے والے اہم مقامات میں میں متحدہ عرب امارات، بنگلہ دیش، امریکہ، سعودی عرب اور بھوٹان شامل ہیں۔ نمایاں کمپنیوں میں گجرات کوآپریٹو ملک مارکیٹنگ فیڈریشن، مدر ڈیری، پنجاب اسٹیٹ کوآپریٹو ملک پروڈیوسرز فیڈریشن، بہار اسٹیٹ ملک کوآپریٹو فیڈریشن اور برٹانیا شامل ہیں۔