Bharat Express DD Free Dish

CP Radhakrishnan

امت شاہ نے اپنی پوسٹ میں لکھا: سی پی رادھا کرشنن کو بھارت کے نائب صدر جمہوریہ کے طور پر حلف لینے پر دلی مبارکباد۔ آپ کا علم اور تجربہ ہماری جمہوری روایات کو مزید مستحکم کرے گا تاکہ عوام کی بہتر خدمت کی جا سکے۔

سی پی رادھا کرشنن ملک کے 15ویں نائب صدر بنے ہیں۔ ان کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے ہے اور وہ طویل عرصے سے سیاست، سماجی خدمات اور عوامی فلاح کے شعبوں میں متحرک رہے ہیں۔

آچاریا لوکیش منی نے یقین ظاہر کیا کہ:"سی پی رادھا کرشنن کا سیاسی اور انتظامی تجربہ، جو انہیں آر ایس ایس اور بی جے پی سے جوڑتا ہے، بھارت کی ترقی میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔"

این ڈی اے کے حمایت یافتہ امیدوار سی پی رادھا کرشنن کو ملک کا نیا نائب صدر منتخب کیا گیا ہے۔ نائب صدر کے انتخاب میں انہیں 452 ووٹ ملے۔ اس جیت کے ساتھ ہی وہ ملک کے نائب صدر کے عہدے کے لیے منتخب ہو گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے مطابق نائب صدر کے انتخاب کے لیے ووٹرز کی کل تعداد 788 تھی، 7 آسامیاں خالی ہونے کے باعث ووٹرز کی موثر تعداد 781 رہی، منگل کے روز ہونے والی ووٹنگ میں 768 اراکین پارلیمنٹ نے ووٹ کاسٹ کیا، جب کہ 13 اراکین غیر حاضر رہے۔ غیر حاضر رہنے والوں میں بی آر ایس کے 4، بی جے ڈی کے 7، شرومنی اکالی دل سے 1 اور ایک آزاد رکن پارلیمنٹ شامل تھے۔

پوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ وہ اس کی تحقیقات کریں گے لیکن این ڈی اے نے اسے اپنی جیت کا ذمہ دار ٹھہرایا اور اسے اپوزیشن کی کمزوری قرار دیا۔ اس واقعہ نے ہندوستانی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور یہ راز آنے والے دنوں میں کھلنا باقی ہے۔

نئی دہلی کے نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں منگل کے روز صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک نئے نائب صدر جمہوریہ کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ ووٹنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی ہوئی، جس میں سی پی رادھا کرشنن جیت گئے۔ بھارت کے نائب صدر جمہوریہ کے عہدے کے لیے این ڈی اے کے امیدوار سی پی رادھا کرشنن اور انڈیا بلاک کے امیدوار سپریم کورٹ کے سابق جج بی سدرشن ریڈی کے درمیان مقابلہ تھا۔

لوک سبھا کے کل 543 ممبران پارلیمنٹ اور راجیہ سبھا کے 233 منتخب اور 12 نامزد ممبران نائب صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ دیں گے۔

این ڈی اے نے اس انتخاب میں اپنا امیدوار سی پی رادھا کرشنن کو نامزد کیا ہے، جو اس وقت مہاراشٹر کے گورنر ہیں اور تمل ناڈو سے تعلق رکھتے ہیں۔

وزیر داخلہ نے سی پی رادھا کرشنن کی تنظیمی اور انتظامی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔