Bharat Express DD Free Dish

Commonwealth Games 2026

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی راجا متھوپانڈی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ویٹ لفٹنگ میں بھارت کے لیے ایک اور تمغہ حاصل ہونا باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا، "گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں مردوں کے 65 کلوگرام مقابلے میں سلور میڈل جیتنے پر راجا متھوپانڈی کو مبارکباد۔ ان کی کامیابی نے ہر بھارتی کو خوشی اور فخر کا احساس دلایا ہے۔

اس کے بعد مردوں کے 60 کلوگرام وزن کے زمرے میں رشی کانت سنگھ نے گھٹنے کی انجری کے باوجود سلور میڈل جیت کر نئی تاریخ رقم کی۔ منی پور سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ ویٹ لفٹر نے اسنیچ میں 121 کلوگرام وزن اٹھا کر کامن ویلتھ گیمز کے ریکارڈ کی برابری کی اور کلین اینڈ جرک سے قبل پہلے نمبر پر تھے۔

میرابائی چانو کی اس شاندار کامیابی کے ساتھ گلاسگو دولت مشترکہ کھیلوں 2026 میں ہندوستان نے اپنا پہلا طلائی تمغہ حاصل کیا ہے۔ اس سے قبل چنمبم رشی کانت سنگھ نے دولت مشترکہ کھیلوں 2026 کے مردوں کے 60 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ انہوں نے اسنیچ میں ریکارڈ توڑ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ وہیں پیرا پاور لفٹنگ میں جھنڈو کمار نے کانسے کا تمغہ جیتا تھا۔

رشی کانت نے مجموعی طور پر 264 کلوگرام وزن اٹھایا جس میں اسنیچ میں 121 کلوگرام اور کلین اینڈ جرک میں 143 کلوگرام شامل ہیں۔ ملیشیا کے محمد انیق کاسدان نے 273 کلوگرام کے دولت مشترکہ کھیلوں کے ریکارڈ مجموعی اسکور کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا۔ انہوں نے اسنیچ میں 121 اور کلین اینڈ جرک میں 152 کلوگرام وزن اٹھایا۔ کینیا کے جوشوا مبویا نے 260 کلوگرام کے ساتھ کانسے کا تمغہ حاصل کیا۔

رشی کانت سنگھ چنمبم نے اتوار کو 2026 دولت مشترکہ کھیلوں کے مردوں کے 60 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسنیچ میں 121 کلوگرام وزن اٹھا کر دولت مشترکہ کھیلوں کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ جھنڈو کمار کی یہ کامیابی ان کی غیر معمولی جسمانی طاقت، فولادی عزم اور برسوں کی منظم اور مسلسل محنت کا بہترین ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کامیابی سے نہ صرف ملک کا وقار بلند ہوا ہے بلکہ لاکھوں بھارتی نوجوانوں کو بھی حوصلہ اور تحریک ملی ہے۔ہیوی ویٹ زمرے کے اس سخت مقابلے میں جھنڈو کمار کا سامنا دنیا کے نامور پیرا پاور لفٹرز سے تھا۔

امت شاہ نے کھلاڑیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں اور ملک کا نام روشن کریں۔ اب پورے ملک کی نظریں بھارتی ایتھلیٹس پر مرکوز ہیں۔

کامن ویلتھ گیمز 2026 میں بھارت 125 کھلاڑیوں کے ساتھ 8 کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے، لیکن کئی اہم کھیلوں کے پروگرام سے خارج ہونے کے باعث تمغوں کی دوڑ پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔برمنگھم کامن ویلتھ گیمز 2022 میں بھارت نے مجموعی طور پر 61 تمغے جیتے تھے، جن میں سے 30 تمغے ایسے کھیلوں میں حاصل ہوئے تھے جو اس بار گلاسگو کامن ویلتھ گیمز کے شیڈول میں شامل ہی نہیں ہیں۔ ان میں ریسلنگ، ہاکی، بیڈمنٹن سمیت کئی ایسے کھیل شامل ہیں جن میں بھارت روایتی طور پر مضبوط دعویدار رہا ہے۔

بھارتی ٹیم کامن ویلتھ گیمز میں اپنے مضبوط ریکارڈ کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔ ملک کی مہم افتتاحی تقریب سے قبل ہی شروع ہو گئی تھی، جب لان باؤلز ٹیم مقابلے میں حصہ لینے والی پہلی بھارتی ایتھلیٹ ٹیم بنی۔ لولینا بورگوہین نے بھی سیمی فائنل میں جگہ بنا کر بھارت کا ایک تمغہ پہلے ہی یقینی بنا دیا ہے۔

اولمپک تمغہ یافتہ بھارتی باکسر لولینا بورگوہین کو ’بائی‘ ملنے کے بعد خواتین کے 75 کلوگرام زمرے کے سیمی فائنل میں براہ راست جگہ مل گئی ہے، جس کے ساتھ ہی ان کا تمغہ بھی یقینی ہو گیا۔