Bharat Express DD Free Dish

CMD Upendra Rai

اپیندر رائے نے مزید کہا کہ بھارت ایکسپریس غیر جانبدار رپورٹنگ اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کے اصولوں پر کاربند رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادارہ درست، شفاف اور عوامی مسائل پر مبنی خبروں کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

اپیندر رائے نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا نے جہاں عام لوگوں کو اظہارِ رائے کی طاقت دی ہے، وہیں فیک نیوز کا خطرہ بھی تیزی سے بڑھا ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی اس خطرے کو مزید سنگین بنا رہی ہے،

پروگرام کا بنیادی مقصد مکالمے کے ذریعے حکومت اور سماج کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ اس دوران کئی اہم موضوعات پر گفتگو کی جائے گی جن کا براہِ راست تعلق عوام اور سرکاری پالیسیوں سے ہے۔

اپیندر رائے نے مزید کہا کہ اگر انسان اپنی زندگی کے دکھ، جدوجہد اور تجربات سے سیکھ لے تو اسے آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہی سوچ انسان کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہے اور اسے دنیا میں ایک منفرد مقام دلاتی ہے۔

کے سی تیاگی نے بتایا کہ جنتا پارٹی کے قیام کے وقت اٹل بہاری واجپائی اور چودھری چرن سنگھ کے درمیان خطوط کے ذریعے رابطہ ہوتا تھا اور انہی خطوط کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے میں وہ ایک چھوٹے سے “ڈاکیا” کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔

کے سی تیاگی نے بتایا کہ اس کے باوجود وہ اکثر اٹل بہاری واجپائی کی تقریریں سننے کے لیے ان کے جلسوں میں جایا کرتے تھے۔ انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ “وہ میرے دل کے لیڈر تھے، چاہے وہ میری پارٹی کے نہ ہوں”۔

منوج گوڑکے مطابق اب حکومت اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کا وژن ایک سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور آئندہ دس برسوں میں اس شعبے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے وقت میں عمارتوں کے ڈیزائن بدلیں گے،

سدھانشو ترویدی نے سابقہ حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ریاست میں قانون و انتظام کی صورتحال کمزور تھی اور صنعت کاری پر بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی تھی، لیکن موجودہ دور میں ترقیاتی منصوبوں اور صنعتی سرگرمیوں نے اتر پردیش کی تصویر بدل دی ہے۔

اس موقع پر بی جے پی کے سینئر لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکن سدھانشو ترویدی نے کئی اہم موضوعات پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ خاص طور پر اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال پر انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بنایا۔

آچاریہ وویک منی نے مزید کہا کہ آج کے دور میں فرد، خاندان، سماج، ملک اور عالمی سطح پر ایک دوسرے کے حقوق کا احترام کرنا انتہائی ضروری ہے۔ جین فلسفے کے مطابق ہمیں دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہیے جو ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ تشدد، نفرت اور ناانصافی سے دور رہنا ہی صحیح راستہ ہے۔