Bharat Express DD Free Dish

Central Government

اطلاعات کے مطابق امت شاہ 25 مئی کی رات تقریباً 10 بج کر 20 منٹ پر خصوصی طیارے کے ذریعے نال ایئرپورٹ پہنچیں گے۔ وہاں سے وہ سیدھے بارڈر سکیورٹی فورس کے سیکٹر ہیڈکوارٹر جائیں گے، جہاں ان کا قیام ہوگا۔ اگلے روز 26 مئی کی صبح وہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے بجو تحصیل میں واقع سانچو سرحدی چوکی روانہ ہوں گے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں کئی اہم اصلاحات نافذ کی گئیں، جن کے باعث طویل عرصے سے رکے ہوئے پالیسی معاملات کو نئی رفتار ملی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کو منظم شکل دینے، ڈیجیٹل نظام کو فروغ دینے اور ملک کو 2047 تک وکست بھارت بنانے کے وژن پر مسلسل کام کیا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 25 مئی کی رات راجستھان کے شہر بیکانیرپہنچیں گے اور وہیں قیام کریں گے۔ ان کا یہ دورہ دو روز پر مشتمل ہوگا، جس کے دوران سکیورٹی سے متعلق کئی اہم پروگراموں میں شرکت متوقع ہے۔ اگلے روز یعنی 26 مئی کی صبح ان کا پروگرام بارڈر سکیورٹی فورس کی سانچو سرحدی چوکی کے معائنے کا ہے، جہاں وہ سرحد پر تعینات جوانوں سے ملاقات کریں گے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم مودی کی تعریف کیے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے رام کرپال یادو نے کہا کہ وہ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کیونکہ انہوں نے وزیراعظم مودی کی قیادت اور صلاحیتوں کو کھلے دل سے سراہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 12 برسوں میں مودی نے جس انداز میں ملک کی قیادت کی ہے، اس سے عالمی سطح پر بھارت کی ایک الگ شناخت قائم ہوئی ہے۔

یہ اجلاس صبح ساڑھے گیارہ بجے بھارت منڈپم میں شروع ہوا، جس میں تقریباً 1500 سے زائد نمائندوں نے حصہ لیا۔ پروگرام کا بنیادی مقصد زرعی ترقی، دیہی معیشت کی مضبوطی، کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور امدادِ باہمی کے شعبے کو مزید مستحکم بنانے پر غور کرنا تھا۔

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ وزیراعظم مودی پارلے بسکٹ اور چاکلیٹ کے اشتہارات اور تشہیری سرگرمیوں میں زیادہ مصروف دکھائی دیتے ہیں، لیکن ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے معاملے میں سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی دشوار بنا دی ہے۔

وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ جیسے ہی سکم اپنی ریاستی حیثیت کے 51ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، جیوترادتیہ سندھیا نے کنچن جنگا کے حوالے سے ایک متاثر کن مضمون تحریر کیا ہے، جس میں اسے سکم کی زمین، یادوں اور اجتماعی شعور کا نگہبان بتایا گیا ہے۔

ششی تھرور کے مطابق بھارت نے اس نازک وقت میں کسی سیاسی اختلاف کو اہمیت دیے بغیر فوری طور پر لاکھوں لیٹر پینے کا پانی مالدیپ بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس امداد کے بدلے کوئی شرط عائد نہیں کی اور یہی وہ طرز عمل ہے جو حقیقی اعتماد پیدا کرتا ہے۔ ان کے مطابق ممالک کے درمیان تعلقات صرف سفارتی بیانات سے نہیں بلکہ عملی تعاون سے مضبوط ہوتے ہیں۔

مرکزی وزیر پیوش گوئل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک طویل پوسٹ جاری کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی عام سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک سنگین سازش کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق کانگریس اور اپوزیشن جماعتیں ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

کانگریس کے اقلیتی شعبہ کے صدر عمران پرتاپ گڑھی کی جانب سے منعقدہ اس اہم اجلاس میں مختلف اقلیتی برادریوں کے نمائندے شریک تھے۔ اجلاس کے دوران راہل گاندھی نے عالمی اور ملکی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں اقتصادی بحران بڑھ رہا ہے اور بھارت بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔