Bharat Express DD Free Dish

bussines

بنیادی ڈھانچے میں 500 فیصد بجٹ اضافے سے قومی شاہراہوں کا نیٹ ورک 2014 میں 91,287 کلومیٹر سے 2023 تک 1,46,145 کلومیٹر تک بڑھا۔ پی ایم گتی شکتی نے ریلوے، سڑکوں، اور بندرگاہوں کے لیے ملٹی موڈل رابطوں کو بہتر بنایا۔ 136 وندے بھارت ٹرینیں چل رہی ہیں۔

ای-گورننس کے باوجود کئی چیلنجز ہیں۔ دیہی-شہری ڈیجیٹل تقسیم ایک بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل آلات تک رسائی محدود ہے۔ کم ڈیجیٹل خواندگی، خاص طور پر غیر ماہر صارفین میں، ای-گورننس کی قبولیت کو متاثر کرتی ہے۔

امت شاہ نے 31 مارچ 2026 تک نکسل ازم کے مکمل خاتمے کا ہدف رکھا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے سیکورٹی آپریشنز، ترقیاتی منصوبوں، اور بحالی کی پالیسیوں کو جاری رکھا جائے گا۔ گڈچیرولی جیسے علاقوں میں پہلی بار بس سروس کا آغاز اس بات کی علامت ہے کہ یہ علاقے اب ترقی کی راہ پر ہیں۔

بھارت نے نکسل ازم (بائیں بازو کے انتہا پسندی یا ایل ڈبلیو ای) کے خلاف اپنی مہم کو تیزی سے آگے بڑھایا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سیکورٹی فورسز نے ماؤنوازوں کے مضبوط گڑھوں، جیسے کہ کوراگٹہ ہلز، پر قبضہ کیا اور سی پی آئی (ماؤسٹ) کے جنرل سیکریٹری باسوراج کی ہلاکت ایک اہم موڑ ثابت …

چیلنجز کے باوجود، جیسے کہ عالمی تجارت میں اتار چڑھاؤ اور مالیاتی پابندیاں، بھارت اپنی خود انحصاری کی پالیسیوں کو مضبوط کر رہا ہے۔ رپورٹ تجویز دیتی ہے کہ بھارت کو نجی شعبے، تعلیمی اداروں اور اسٹارٹ اپس کے ساتھ مل کر ایک قومی منصوبے کے تحت کام کرنا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق، پچھلے ایک دہائی میں 25 کروڑ سے زائد افراد غربت سے نکلے ہیں۔ خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت بڑھ رہی ہے، اور تعلیم، صحت، اور غذائیت پر توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ ترقی نہ صرف معاشی بلکہ سماجی طور پر بھی بھارت کو مضبوط کر رہی ہے۔

بھارت کا طویل مدتی ہدف 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننا ہے، جو اسے عالمی سطح پر ایک سپر پاور بنائے گا۔ اس کے لیے بھارت کو بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ، اور ٹیکنالوجی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

ایس اینڈ پی گلوبل کے ایک مطالعے کے مطابق، بھارت عالمی تجارت کے بدلتے ہوئے رجحانات سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے۔ حکومت کی پالیسیاں، جیسے کہ آزادانہ تجارت کے معاہدوں (ایف ٹی ایز) اور پی ایل آئی اسکیم، نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے۔

وژن 2030 کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے رپورٹ میں کئی اہم تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ سب سے پہلے، ایک واحد نوڈل ایجنسی کے ذریعے گورننس کو ادارہ جاتی بنانے کی ضرورت ہے تاکہ پالیسیوں کو ہم آہنگ کیا جا سکے۔

ای پی ایف او کے مطابق، نئے اراکین میں سے 70 فیصد سے زائد نے اپنی پہلی ملازمت کے ساتھ شمولیت اختیار کی، جو کہ روزگار کے نئے مواقع کی نشاندہی کرتا ہے۔ خواتین کی شمولیت میں اضافہ بھی حوصلہ افزا ہے۔