بھارت کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اور مینوفیکچرنگ سیکٹر اس کی ریڑھ کی ہڈی بن رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت کا مینوفیکچرنگ سیکٹر 17.2 فیصد جی ڈی پی میں حصہ ڈالتا ہے، اور حکومت کی پالیسیوں نے اسے مزید فروغ دیا ہے۔ پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم، جو 2020 میں متعارف کرائی گئی، نے الیکٹرانکس، آٹوموبائل، اور دفاعی شعبوں میں سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت مینوفیکچررز کو ان کی اضافی فروخت پر سبسڈی دی جاتی ہے، جس سے مقامی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ مثال کے طور پر، ایپل نے 2020 سے بھارت میں اپنی آئی فون پروڈکشن کو بڑھایا ہے اور اب عالمی سطح پر 15 فیصد آئی فون بھارت میں تیار ہوتے ہیں، جن میں اعلیٰ درجے کے پرو ماڈلز بھی شامل ہیں۔
ریلوے اور لوکوموٹو سیکٹر
حال ہی میں وزیر اعظم مودی نے گجرات کے داہود میں انڈین ریلوے کی ایک جدید الیکٹرک لوکوموٹو مینوفیکچرنگ فیکٹری کا افتتاح کیا۔ یہ پلانٹ 9000 ہارس پاور کے الیکٹرک لوکوموٹوز تیار کرے گا، جو نہ صرف ملکی ضروریات پوری کرے گا بلکہ برآمدات کے لیے بھی استعمال ہوگا۔ یہ پلانٹ مودی کے ویژن کا حصہ ہے، جس کا مقصد ریلوے کے ذریعے رابطوں کو بہتر بنانا اور عالمی معیار کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا ہے۔ یہ لوکوموٹوز ریلوے کی مال برداری کی صلاحیت کو بڑھائیں گے، جو بھارت کی معاشی ترقی کے لیے اہم ہے۔
ایرو اسپیس اور دفاعی شعبہ
بھارت کا ایرو اسپیس اور دفاعی سیکٹر بھی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ 2018 میں مودی نے اتر پردیش اور تمل ناڈو میں دو دفاعی صنعتی راہداریوں کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ حال ہی میں بھارت اور روس نے اتر پردیش میں براہموس سپرسونک کروز میزائل کی جدید ورژن کی تیاری کے لیے بات چیت شروع کی ہے۔ یہ میزائل، جو بھارت اور روس کی مشترکہ تیاری ہے، آپریشن سندور میں اپنی کامیابی کے بعد عالمی توجہ حاصل کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ، ٹاٹا اور ایئر بس نے گجرات کے وڈودرا میں سی-295 ٹرانسپورٹ طیاروں کی تیاری کے لیے ایک فیکٹری قائم کی ہے، جو بھارت کی دفاعی خود انحصاری کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔
الیکٹرانکس اور سیمی کنڈکٹر
بھارت الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میں بھی نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔ ایپل کے علاوہ، فاکس کان اور ٹاٹا الیکٹرانکس جیسے اداروں نے بھارت میں آئی فون اور ایئر پوڈز کی تیاری شروع کی ہے۔ اس کے علاوہ، ایچ سی ایل اور فاکس کان نے گریٹر نوئیڈا کے جیور میں ایک نئی سیمی کنڈکٹر یونٹ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جو مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مشین لرننگ کے لیے چپس تیار کرے گی۔ سیمی کنڈکٹرز جدید ٹیکنالوجی کا بنیادی جزو ہیں، اور بھارت اس شعبے میں عالمی طلب کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عالمی سرمایہ کاری اور پالیسیاں
ایس اینڈ پی گلوبل کے ایک مطالعے کے مطابق، بھارت عالمی تجارت کے بدلتے ہوئے رجحانات سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں ہے۔ حکومت کی پالیسیاں، جیسے کہ آزادانہ تجارت کے معاہدوں (ایف ٹی ایز) اور پی ایل آئی اسکیم، نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا ہے۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایپل کو بھارت کے بجائے امریکہ میں مینوفیکچرنگ بڑھانے کے دباؤ نے کچھ خدشات پیدا کیے ہیں۔ اس کے باوجود، ایپل نے بھارتی حکام کو یقین دلایا ہے کہ وہ بھارت میں اپنی سرمایہ کاری کو جاری رکھے گا۔
چیلنجز اور مواقع
اگرچہ بھارت کا مینوفیکچرنگ سیکٹر ترقی کر رہا ہے، لیکن اسے کچھ چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے کہ مالیاتی پابندیاں، قیمتوں کا دباؤ، اور عالمی تجارت میں اتار چڑھاؤ۔ تاہم، یورپی کیمیکل انڈسٹری کی مشکلات نے بھارتی مینوفیکچررز کے لیے مواقع پیدا کیے ہیں، جو یورپی منڈیوں میں اپنی موجودگی بڑھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، بھارت کی معتدل تجارت پر انحصار اسے عالمی تجارت کے خلل سے بچاتا ہے۔
مودی کی قیادت میں بھارت کا مینوفیکچرنگ سیکٹر نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنا مقام بنا رہا ہے۔ ریلوے، ایرو اسپیس، الیکٹرانکس، اور دفاعی شعبوں میں ترقی بھارت کے عزائم کو ظاہر کرتی ہے۔ حکومتی پالیسیوں، غیر ملکی سرمایہ کاری، اور ٹیکنالوجی کے استعمال نے اس سیکٹر کو ایک نئی سمت دی ہے۔ اگرچہ چیلنجز موجود ہیں، لیکن بھارت کی خود انحصاری اور عالمی سپلائی چین میں شمولیت کی خواہش اسے ایک مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس بنانے کی طرف گامزن کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

