وزیر اعظم نریندر مودی
مودی کی قیادت میں بھارت 2025 میں 4.19 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت بن گیا، جاپان کو پیچھے چھوڑتے ہوئے۔ آئی ایم ایف کے مطابق، بھارت 2026 تک جرمنی کو پیچھے چھوڑ کر تیسری بڑی معیشت بن سکتا ہے۔ پچھلے دہائی میں 25 کروڑ افراد غربت سے نکلے، جو عالمی سطح پر ایک نمایاں کامیابی ہے۔ یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) نے ڈیجیٹل لین دین میں انقلاب برپا کیا، جو عالمی فوری ادائیگیوں کا 50 فیصد حصہ رکھتا ہے۔2015 میں شروع ہونے والا ڈیجیٹل انڈیا پروگرام سرکاری خدمات کو آن لائن لے آیا، جس سے دیہی علاقوں تک انٹرنیٹ کی رسائی بڑھی۔ بھارت نیٹ نے 2.5 لاکھ گرام پنچایتوں کو ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سے جوڑا۔ یو پی آئی کے ذریعے ماہانہ 5.5 ارب سے زائد لین دین ہوتے ہیں، اور 1 جی بی ڈیٹا کی قیمت 12 سینٹ سے بھی کم ہے، جو دنیا میں سب سے سستی ہے۔ ای-گورننس نے شفافیت اور جوابدہی کو بڑھایا، جیسے کہ براہ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے سبسڈیز کی تقسیم۔
بھارتی خلائی تحقیقاتی تنظیم (اسرو) نے چندریان-3 کی کامیابی سے چاند پر قدم رکھا اور ادیتیہ-ایل 1 کے ذریعے سورج کا مطالعہ شروع کیا۔ گگنیان مشن بھارت کو انسانی خلائی پرواز کے قابل بنائے گا۔ خلائی شعبے کو نجی شعبے کے لیے کھولنے سے اسٹارٹ اپس اور جدت کو فروغ ملا۔2020 میں شروع ہونے والا آتما نربھر بھارت ابھیان مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دیتا ہے۔ 20 لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج کے ساتھ، اس نے “لوکل فار گلوبل” اور “ووکل فار لوکل” پر زور دیا۔ پروڈکشن لنکڈ انسینٹو (پی ایل آئی) اسکیم نے الیکٹرانکس، دفاعی، اور دواسازی کی پیداوار کو بڑھایا۔ مثال کے طور پر، موبائل فون کی برآمدات 2017-18 میں 200 ملین ڈالر سے بڑھ کر 2021-22 میں 5.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
بنیادی ڈھانچے میں 500 فیصد بجٹ اضافے سے قومی شاہراہوں کا نیٹ ورک 2014 میں 91,287 کلومیٹر سے 2023 تک 1,46,145 کلومیٹر تک بڑھا۔ پی ایم گتی شکتی نے ریلوے، سڑکوں، اور بندرگاہوں کے لیے ملٹی موڈل رابطوں کو بہتر بنایا۔ 136 وندے بھارت ٹرینیں چل رہی ہیں، اور ہوائی اڈوں کی تعداد 74 سے بڑھ کر 157 ہو گئی۔ پرادھان منتری گرام سڑک یوجنا کے تحت 3.74 لاکھ کلومیٹر دیہی سڑکیں تعمیر ہوئیں۔پرادھان منتری جن دھن یوجنا نے 45 کروڑ سے زائد بینک اکاؤنٹس کھول کر مالی شمولیت کو فروغ دیا۔ ایوشمن بھارت نے 37 کروڑ ہیلتھ کارڈز کے ذریعے مفت علاج فراہم کیا۔ اجولا یوجنا نے 10 کروڑ سے زائد ایل پی جی کنکشن دیے، اور سوچھ بھارت نے 11 کروڑ سے زائد بیت الخلاء تعمیر کیے۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ نے بچیوں کی تعلیم اور بااختیاری کو فروغ دیا۔
اگرچہ ترقی نمایاں ہے، لیکن تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) میں سرمایہ کاری عالمی معیار سے کم ہے۔ دی وائر کی ایک رپورٹ کے مطابق، سائنسی تحقیق میں بھارت عالمی اوسط سے پیچھے ہے۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل تقسیم اور ہنر کی کمی جیسے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔مودی کے 11 سالہ دور نے بھارت کو معاشی، تکنیکی، اور سماجی طور پر تبدیل کیا۔ ڈیجیٹل انڈیا، خلائی کامیابیاں، اور آتما نربھر بھارت نے بھارت کو عالمی طاقت بنایا۔ بنیادی ڈھانچے اور سماجی اقدامات نے شہریوں کی زندگی کو بہتر بنایا، لیکن تکنیکی تحقیق اور ڈیجیٹل شمولیت جیسے شعبوں میں مزید کام کی ضرورت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

