Bharat Express DD Free Dish

Budget Session

ادھر آج صبح اپوزیشن جماعتوں نے راجیہ سبھا میں قائدحزب اختلاف کے چیمبر میں صبح 10 بجے ایک اہم میٹنگ بلائی، جس میں موجودہ صورتحال اور آئندہ حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اپوزیشن نے حکومت پر پارلیمانی روایات کو پامال کرنے کا الزام لگایا ہے۔

پارلیمنٹ کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران ایک بار پھر سیاسی ہنگامہ آرائی نے ایوان کی کارروائی کو متاثر کیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باعث وزیر اعظم مودی کا خطاب نہیں ہو سکا۔ دوسری جانب راجیہ سبھا میں بھی منی پور اور نفرت کے مبینہ پھیلاؤ کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا گیا، جس سے ایوان کا ماحول مزید گرم ہو گیا۔

پارلیمنٹ کے جاری بجٹ اجلاس کے دوران لوک سبھا میں مسلسل سیاسی ہنگامہ آرائی کا سلسلہ بدھ کو بھی جاری رہا، جس کے باعث وزیر اعظم مودی کا خطاب ایک بار پھر ملتوی ہو گیا۔ ایوان میں اپوزیشن کے شدید احتجاج کے پیش نظر لوک سبھا کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی، جو اب جمعرات صبح 11 بجے دوبارہ شروع ہوگی۔

پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن 2026 کے چوتھے دن لوک سبھا میں اس وقت زبردست ہنگامہ دیکھنے میں آیا جب راہل گاندھی نے ڈوکلام تنازع کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا۔ صدر جمہوریہ کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران راہل گاندھی نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے چین کے دباؤ میں آ کر بھارت کی ہزاروں ایکڑ زمین سرنڈر کر دی ہے۔

مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے مالی سال 2026-27 کے لیے پیش کیے گئے مرکزی بجٹ کو ’’وکست بھارت بجٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیرِاعظم مودی کے عزم اور وژن کی بھرپور تعریف کی ہے۔

وزیراعظم مودی نے عام بجٹ 2026-27 پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بجٹ محض تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کی دستاویز نہیں بلکہ بھارت کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنانے کی سمت ایک مضبوط اور فیصلہ کن قدم ہے۔

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے پارلیمنٹ میں عام بجٹ پیش کیا، جس میں معیشت کی ترقی کو رفتار دینے پر زور دیا گیا ہے۔ اس بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے نے سخت تنقید کی اور اسے غریب مخالف بجٹ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں مہنگائی، بے روزگاری اور غربت جیسے بنیادی مسائل کا کوئی مؤثر حل پیش نہیں کیا گیا۔

مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے لوک سبھا میں عام بجٹ 2026 پیش کیا، جسے وزیرِاعظم نریندر مودی نے تاریخی قرار دیا، تاہم کانگریس نے اس بجٹ کو مایوس کن اور بے اثر بتایا ہے۔

مرکزی بجٹ کی پیشکش کے بعد وزیرِاعظم نریندر مودی نے حکومت کے معاشی وژن کو واضح کرتے ہوئے بجٹ کی بھرپور ستائش کی ہے۔ انہوں نے اس بجٹ کو ’’بے پناہ مواقع کا بجٹ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد کو مزید مضبوط کرے گا۔

امید کی جا رہی ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے اراکینِ پارلیمنٹ ٹیکس، عوامی اخراجات اور پالیسی اصلاحات پر تفصیلی بحث کریں گے۔ پورے اجلاس کے دوران پارلیمنٹ کی مجموعی طور پر 30 نشستیں ہوں گی۔