Bharat Express DD Free Dish

BRICS nations

دو روزہ 12ویں برکس پارلیمانی فورم کی میزبانی ہندوستانی پارلیمنٹ کررہی ہے۔ اس میں برکس کے 11 رکن ممالک اور 10 شراکت دار ممالک کے پارلیمانی وفود شرکت کررہے ہیں۔ فورم کی افتتاحی تقریب پیر کی صبح 10 بجے شروع ہوئی، جس میں لوک سبھا اسپیکر اور فورم کے چیئرمین اوم برلا نے افتتاحی خطاب کیا۔

نئی دہلی میں 26 اور 27 اکتوبر کو 12ویں برکس پارلیمانی فورم کا انعقاد ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور اوم برلا عالمی لیڈروں کے ساتھ دہشت گردی، تجارت اور عوام پر مرکوز ترقی جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

بھارت 26 اور 27 اکتوبر کو 12ویں برکس پارلیمانی فورم کی میزبانی کرے گا۔ نئی دہلی میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں عوام پر مرکوز ترقی، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، پائیدار ترقی اور عالمی حکمرانی کے نظام میں اصلاحات جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال ہوگا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سمیت مختلف ممالک کے پارلیمانی نمائندے اس میں شرکت کریں گے۔

پیوش گوئل نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کے وژن کے مطابق بھارت برکس خاندان کے تمام رکن ممالک کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت صرف مذاکرات تک محدود نہیں رہنا چاہتا بلکہ ان مباحث کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے سرگرم ہے، تاکہ تمام رکن ممالک کی مشترکہ ترقی، خوشحالی اور صنعتی پیش رفت کو نئی رفتار مل سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ رواں سال کے بجٹ میں انفراسٹرکچر کیلئے 120 بلین ڈالر کی تجویز رکھی ہے۔اس انویسمنٹ کے ذریعے ہم مستقبل کے مضبوط بھارت کی بنیاد رکھ رہے ہیں ۔ریل ،روڈ ، موٹر وے،ا یئرویز ہر سیکٹر میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے۔آج بھارت میں دس ہزار فی کلو میٹر کی رفتار سے نئی شاہراہیں بن رہی ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی 15ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے منگل (22 اگست) کی شام تقریباً 5.15 بجے جنوبی افریقہ کے جوہانسبرگ پہنچے۔ اس دوران ایئرپورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ پی ایم مودی صدر سیرل رامافوسا کی دعوت پر یہاں پہنچے ہیں اور 22 سے 24 اگست تک قیام کریں گے۔

لاقات کے بارے میں قیاس آرائیاں اس وقت  بڑھ گئیں، جب سکریٹری خارجہ ونے کواترا نے کہا کہ وزیر اعظم کے سفر کے پروگرام پر ابھی کام کیا جا رہا ہے، لیکن انہوں نے واضح طور پر اس امکان سے انکار نہیں کیا کہ دونوں رہنما برکس کے مختلف پروگراموں کے موقع پر ملاقات کریں گے، جس کا آغاز کل شام  میں ہو گا۔

مرکزی وزیر خارجہ نےکہا ،ہمارے اجتماع کو ایک مضبوط پیغام دینا چاہیے کہ دنیا کثیر قطبی ہے، یہ دوبارہ متوازن ہو رہی ہے، اور یہ پرانے طریقے ہیں۔ نئے حالات کو حل نہیں کر سکتے۔ ہم تبدیلی کی علامت ہیں اور اس کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔