Bharat Express DD Free Dish

Bollywood Actress

فلم میں خوشالی کمار کے ساتھ سینئر اداکار مہیش مانجریکر اور معروف اداکار پیوش مشرا بھی اہم کرداروں میں نظر آئیں گے۔ تجربہ کار اور باصلاحیت فنکاروں کے ساتھ کام کرنا خوشالی کے سوچے سمجھے فلمی انتخاب کی عکاسی کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے کیریئر میں معیاری سینما کو ترجیح دے رہی ہیں۔خوشالی کمار ایسے وقت میں مختلف نوعیت کے کردار ادا کر رہی ہیں،

انہوں نے مزید کہا کہ اس فرنچائز نے نہ صرف انہیں بلکہ پوری کاسٹ کو ایسی شناخت دی، جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ان کے مطابق ناظرین نے صرف کہانی کو ہی پسند نہیں کیا بلکہ ہر کردار کے ساتھ جذباتی تعلق بھی قائم کر لیا۔ شویتا نے بتایا کہ آج بھی بہت سے لوگ انہیں ان کے اصل نام سے کم اور "گولو دیدی" کے نام سے زیادہ جانتے ہیں، جو ان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔

اپنے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیا مرزا نے کہا، "میرا کردار اس کہانی میں ایک اینکر کی طرح ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے خواتین کو متحد رکھا اور انہیں ایک طاقت کے طور پر جوڑے رکھا۔ جب ان کے شوہر مشن پر ہوتے تھے، اس وقت ان خواتین کے لیے ان حالات کا سامنا کرنا کیا معنی رکھتا تھا،

گزشتہ ایک ماہ سے دہلی کے جنتر منتر پر امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پرچہ لیک کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کا احتجاج جاری ہے، جہاں سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ اس احتجاج کی حمایت میں بالی ووڈ کی کئی معروف شخصیات بھی سامنے آئی ہیں۔

ادا شرما نے کہا کہ حقیقی کہانیوں پر مبنی فلمیں بناتے وقت سب سے زیادہ ضروری بات یہ ہوتی ہے کہ کرداروں کے ساتھ مکمل حساسیت برتی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناظرین کو متاثر کرنے کے لیے کسی کے دکھ درد کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا مناسب نہیں، بلکہ اصل حقیقت کو اسی انداز میں دکھانا چاہیے جس طرح وہ پیش آئی ہو۔

اپنی پوسٹ میں مگدھا نے لکھا، "مراٹھی فلم 'فریم' کا حصہ بننا میرے لیے انتہائی خوشی کی بات ہے۔ یہ فلم بہت خوبصورتی اور باریک بینی سے بنائی گئی ہے۔ میرے پسندیدہ ناگ راج منجولے اور امیے کو بہت سارا پیار۔ اگرچہ میرا کردار چھوٹا تھا، لیکن آپ سب نے مجھے گھر جیسا احساس دلایا۔

زینت امان نے قابل ذکر بات یہ ہےکہ اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اب فلمی دنیا میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے اور مرکزی اداکارائیں مضبوط اور بااثر کرداروں کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔انہوں نے کہا، "میرے خیال میں اب حالات بدل رہے ہیں۔ خواتین بہتر کرداروں کا مطالبہ کر رہی ہیں

جیکلین فرنانڈیزنے پہلے دہلی کی ٹرائل کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا، جس میں ان کے خلاف الزامات طے کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ اسی فیصلے کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، قابل ذکر بات یہ ہےکہ اب انہوں نے اپنی درخواست واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

گانے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے موہت چوہان نے کہا کہ اس گیت کی سب سے خاص بات اس کی پراسراریت ہے۔ یہ سب کچھ ایک ہی بار میں بیان نہیں کرتا بلکہ آہستہ آہستہ جذبات کی مختلف پرتیں کھولتا ہے۔ اس میں تجسس اور حساسیت کا ایک منفرد امتزاج ہے،

جمعرات کو سماعت کے آغاز میں جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس اتل ایس چندورکر پر مشتمل بنچ نے جیکلین فرنانڈیز کے وکیل اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے نمائندوں کو آگاہ کیا کہ یہ معاملہ کسی دوسری بنچ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔