Bharat Express DD Free Dish

BJP vs Congress

یاد رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کے روز کہا کہ کوئی بھی ہندوستانی کبھی نہیں بھولے گا کہ ایمرجنسی کے دوران آئین کی روح کی خلاف ورزی کیسے ہوئی۔ انہوں نے آئینی اصولوں کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔

۔سلمان  خورشید، جو کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن ہیں، نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے کو عالمی سطح پر پیش کرنا ضروری ہے، اور اس بحث کو ملکی سیاسی اختلافات میں نہیں الجھنا چاہیے۔

گوگوئی نے یہ بھی پوچھا کہ اگر انھوں نے کچھ غلط کیا ہے، تو بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے پچھلے 11 سالوں میں ان کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟

کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے کہاکہ حکمران پارٹی سنجیدہ ماحول میں کارٹونزم کر رہی ہے، اپوزیشن حکمران پارٹی کے ساتھ کھڑی تھی لیکن بی جے پی ہمیشہ احمقانہ باتیں کرتی ہے، ہمیں فوج پر بھروسہ ہے لیکن قومی قیادت پر یقین نہیں۔

بھارت نے آپریشن سندور کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔اس کے بعد پھر دونوں ملکوں کے مابین دو تین دنوں تک جنگ کی صورتحال برقرار رہی، پھر اس کے بعد سیز فائر معاہدہ طے پاگیا۔

اگر پوری کہانی کو سمجھا جائے تو چدمبرم نے کہا کہ اگر آپ کو بی جے پی سے مقابلہ کرنا ہے تو تنظیم کو مضبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے سیاسی سفر میں کسی جماعت کو تنظیم کے طور پر اتنا مضبوط نہیں دیکھا۔ یہ ایک مشینری کے طور پر کام کر رہی ہے۔

کانگریس لیڈر کنہیا کمار نے مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سرمایہ داروں کے قرضے معاف کر دیے گئے ہیں۔ ملک میں اس وقت سب سے زیادہ بے روزگاری ہے۔ آج ملک میں نوجوان خودکشی کر رہے ہیں۔ بہار میں طلبہ پر لاٹھی چارج کیا گیا۔

سید ناصرحسین نے کہا کہ مجھے حیرانی تب ہوئی جب بی جے پی کے ممبران نے ایوان میں کہا کہ آئین سے اوپر شرعیہ کو رکھا گیا۔ میں ان کا دھیان آرٹیکل25-26 کی طرف دلانا چاہوں گا،جس میں صرف اسلام کے لئے نہیں بلکہ تمام مذاہب کے لئے مذہبی آزادی کا حق دیا گیاہے۔

جب میں یہ کہتی ہوں کہ وہ ایک ذات کو دوسری ذات کے خلاف کھڑا کر کے معاشرے اور برادریوں کے تنازعات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر ر ہے ہیں، تو سیاست میں کوئی بھی نووارد ہی اسے تعریف کے طور پر دیکھے گا۔ مجھے لگتا ہے کہ میں نے اپنے تجزیہ میں اس کے بارے میں بہت زیادہ بات کی ہے۔

ہریانہ میں کل 90 اسمبلی سیٹیں ہیں۔ یہاں پرکسی بھی پارٹی کو اکثریت کے لئے 46 سیٹوں کی ضرورت ہوگی۔ یہاں پر 10 سالوں سے بی جے پی کی حکومت ہے۔ اس الیکشن میں کانگریس-بی جے پی میں سخت مقابلہ ہے۔