Bharat Express DD Free Dish

BJP government

سروم اے آئی کے شریک بانی پرتیوش کمار نے وزیراعظم نریندر مودی کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے وژن کو سراہا اور کہا کہ بھارت اس میدان میں صرف حصہ لینے والا نہیں بلکہ قیادت کرنے والا ملک بنے گا۔

آسام کانگریس کے سابق صدر بھوپین کمار بورا نے کانگریس سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس کے بعد ان کے بی جے پی میں شمولیت کے قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں۔ اس موقع پر اے آئی یو ڈی ایف نے کانگریس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پارٹی میں بی جے پی کے ایجنٹس موجود ہیں اور بورا کی جانب سے اتحاد توڑا گیا۔

دہلی ہائی کورٹ نے برطانیہ میں مقیم مصنفہ اور صحافی امرت ولسن کے اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ کی منسوخی کے خلاف دائر عرضی پر مرکزی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ملک کی بدنامی کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ معاملے کی آئندہ سماعت اگست میں مقرر کی گئی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے کبھی بھی مکمل طور پر مطمئن نہیں ہوتے، کیونکہ عوامی زندگی میں رہتے ہوئے انسان کے اندر ایک مثبت بے چینی کا ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق یہی بے چینی بہتر کارکردگی، تیز رفتار اصلاحات اور مسلسل آگے بڑھنے کی تحریک فراہم کرتی ہے۔

وزیر اعظم مودی اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کی مبینہ طور پر اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز شیئر کرنے کے معاملے میں لوک سبھا سکریٹریٹ نے کانگریس کے 9 لیڈروں کو نوٹس جاری کیا ہے۔ نوٹس میں تین دن کے اندر تحریری جواب طلب کیا گیا ہے۔

نئی دہلی میں واقع بھارت منڈپم میں آج شام ’انڈیا اے آئی امپیکٹ ایکسپو 2026‘ کا باوقار افتتاح عمل میں آیا۔ وزیر اعظم مودی نے تقریب کا باقاعدہ آغاز کیا اور بعد ازاں اسٹارٹ اپس کے نمائندوں سے تبادلہ خیال کیا۔ یہ میگا ایونٹ 16 سے 20 فروری تک جاری رہے گا جبکہ اس کے ساتھ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ بھی منعقد کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے پاکستان کے ساتھ ممکنہ جنگ کے خطرے سے متعلق سوال پر واضح کیا ہے کہ بھارت ہر صورتحال کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی بجٹ میں اضافہ کسی ایک واقعے یا آپریشن سے جڑا ہوا نہیں بلکہ یہ ملک کی طویل مدتی سلامتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کانگریس کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ حالیہ تجارتی معاہدوں سے بھارتی کسانوں کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے ہر معاہدے میں زراعت، ڈیری اور ماہی گیری کے شعبوں کے مفادات کا مکمل تحفظ یقینی بنایا ہے اور کسی بھی طبقے کو غیر محفوظ نہیں چھوڑا گیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا بھارت اب 2047 تک ’وکست بھارت‘ کے ہدف کی جانب اگلا بڑا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے اور کیا یہ واقعی ’اب یا کبھی نہیں‘ جیسی صورتحال ہے، کہا کہ موجودہ حالات بھارت کے لیے ایک تاریخی موقع فراہم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ملک کے پاس نوجوان اور ہنر مند آبادی کی بڑی طاقت موجود ہے، جو مستقبل کی معیشت کو نئی سمت دے سکتی ہے۔

کشمیر کے ممتاز مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے ملک میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ برادری اس وقت ایک نہایت مشکل اور چیلنجنگ دور سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے بڑھتی ہوئی سماجی تقسیم اور فرقہ وارانہ کشیدگی پر خبردار کیا اور کہا کہ مسلمانوں میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔