CM Omar Abdullah On Fuel Gas Rumors: افواہوں پر یقین نہ کریں، ایندھن کی کوئی کمی نہیں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سخت وارننگ
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں ہے اور عوام کو گھبراہٹ میں آ کر پٹرول پمپوں یا گیس ایجنسیوں پر غیر ضروری بھیڑ نہیں لگانی چاہیے۔
Delhi Assembly Bomb Threat: دہلی اسمبلی کو بم سے اڑانے کی دھمکی، ای میل سے سکیورٹی ایجنسیوں میں ہلچل
موصولہ ای میل میں دھمکی دینے والے شخص نے کہا کہ اگر فوری طور پر عمارت کو خالی نہ کرایا گیا تو زوردار دھماکہ ہو سکتا ہے۔ ای میل میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ دھماکہ خیز مواد مختلف مقامات پر نصب کیا گیا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس اطلاع کے بعد اسمبلی احاطے میں ہنگامی بنیادوں پر تلاشی مہم شروع کر دی گئی۔
Centre Notifies Order To Strengthen Piped Natural Gas Infrastructure: قدرتی گیس انفراسٹرکچر کے فروغ اور پی این جی کی رسائی بہتر بنانے کے لیے مرکز کا نیا حکم جاری
یہ حکم وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے، جس کا مقصد پائپ لائن بچھانے اور ان کی توسیع کے لیے ایک سادہ اور وقت بند فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے منظوری میں تاخیر، زمین تک رسائی میں مشکلات اور انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی، جس سے رہائشی علاقوں میں قدرتی گیس کا نیٹ ورک تیزی سے پھیل سکے گا۔
Fuel Shortage Rumours: ایندھن کی قلت کی افواہیں بے بنیاد، ملک میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کا وافر ذخیرہ موجود: تیل کمپنیاں
بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ سپلائی چین بغیر کسی رکاوٹ کے معمول کے مطابق چل رہی ہے اور صارفین کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
Bihar Politics: نتیش کے دہلی کُوچ سے پہلے ہی جے ڈی یو میں بغاوت! رکن پارلیمنٹ گردھاری یادو کی رکنیت ختم کرنے کی مانگ
یہ اقدام وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے دہلی روانگی سے قبل پارٹی کے سخت موقف کی عکاسی کرتا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نظم و ضبط کی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ گر دھاری یادو پر طویل عرصے سے پارٹی کی پالیسیوں کے خلاف بیانات دینے اور مخالف دھڑے سے نزدیکی بڑھانے کے سنگین الزامات عائد تھے، جس کے بعد قیادت نے انہیں پارلیمانی سطح پر روکنے کا فیصلہ کیا۔
PM & HM Extends Birthday Greetings: وزیراعظم مودی اور امت شاہ نے وزیر اعلیٰ موہن یادو کو دی سالگرہ کی مبارکباد، صوبے میں ترقیاتی کاموں کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا
وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو کو ان کی سالگرہ پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے یادو کے کاموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ مدھیہ پردیش کے جامع ترقیاتی منصوبوں میں سبقت لے رہے ہیں۔
Gujarat Assembly Passes UCC Bill: گجرات اسمبلی میں متنازعہ یونیفارم سول کوڈ بل منظور، لیو ان ریلیشن شپ کے لیے رجسٹریشن لازمی، دھوکہ دہی کی شادی پر 7 سال تک قید کی سزا
گجرات کے وزیراعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے 24 مارچ 2026 کو بل اسمبلی میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بل تمام شہریوں پر یکساں طور پر نافذ ہوگا اور ریاست کے شہریوں کی مساوی انصاف کی توقعات اور حقوق کی عکاسی کرتا ہے۔
PM Modi Addresses Rajya Sabha On Iran War: آبنائے ہرمز میں حملے ناقابل قبول، مشرق وسطیٰ بحران طویل چیلنج، وزیر اعظم مودی کا راجیہ سبھا میں بیان
وزیر اعظم نے ایوان کے ذریعے عالمی برادری کو پیغام دیا کہ موجودہ تنازعہ کا واحد حل سفارت کاری اور بات چیت ہے۔ انہوں نے اس بحران کا موازنہ کورونا وبا سے کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح بھارت نے وبا کے دوران چیلنجز کا مقابلہ کیا، اسی طرح موجودہ عالمی اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے بھی ملک پوری طرح تیار ہے۔
Abu Asim Azmi Demands Action Against Hate Crimes: ”داڑھی والے شخص کو کب کون مار دے، کچھ کہا نہیں جا سکتا“، مہاراشٹر اسمبلی میں ابو عاصم اعظمی کا بڑا بیان، وزیر اعلیٰ سے سخت کارروائی کا مطالبہ
ابو عاصم اعظمی نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے کہ کسی بھی وقت کسی کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”داڑھی، کرتا اور ٹوپی پہن کر نکلنے والے شخص کو کب کون مار دے، کچھ کہا نہیں جا سکتا“۔ ان کے مطابق یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے اور ریاست میں امن و امان کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔
Asaduddin Owaisi On Varanasi Boat Iftar Party: ”کون سا قانون ہے جو گنگا میں کھانا کھانے سے روکتا ہے؟“، گنگا میں افطار والے معاملے پر اسدالدین اویسی نے اٹھائے سوال
رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے کہا کہ بھارت میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جو گنگا میں کھانا کھانے پر پابندی عائد کرتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ افطار کرنے والے نوجوانوں پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے وہاں گوشت کھایا اور ہڈیاں دریا میں پھینکیں، جبکہ اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔





