Bharat Express DD Free Dish

BJP. Congress

دہلی کے 1.56 کروڑ ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں اور تقریباً 700 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے گھروں سے نکل کر پولنگ بوتھ پہنچ رہے ہیں۔ نتائج کا اعلان 8 فروری کو کیا جائے گا۔

قومی دارالحکومت میں تمام 70 اسمبلی سیٹوں کے لیے 13,766 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ 699 امیدوار میدان میں ہیں۔ شفاف ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے نیم فوجی دستوں کی 220 کمپنیاں، 35,626 دہلی پولیس اہلکار اور 19,000 ہوم گارڈز تعینات کیے گئے ہیں۔

اس انتخاب میں جہاں عام آدمی پارٹی تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کی لڑائی میں مصروف ہے وہیں بی جے پی اور کانگریس بھی تخت دہلی پر قبضہ کرنے کی جدوجہد  کررہی  ہیں۔ بی جے پی 25 سال سے زیادہ عرصے سے اقتدار سے باہر ہے۔

قومی دارالحکومت میں تمام 70 اسمبلی سیٹوں کے لیے 13,766 پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ 699 امیدوار میدان میں ہیں۔ شفاف ووٹنگ کو یقینی بنانے کے لیے نیم فوجی دستوں کی 220 کمپنیاں، 35,626 دہلی پولیس اہلکار اور 19,000 ہوم گارڈز تعینات کیے گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے بی جے پی کرناٹک کے ’قابل اعتراض پوسٹ‘ کو نہ ہٹانے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ اس معاملے میں، الیکشن کمیشن نے اب مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس پوسٹ کو 'فوری اثر' سے ہٹائے۔

احمد پٹیل کے بیٹے فیضل اور بیٹی ممتاز بھروچ لوک سبھا سیٹ سے ٹکٹ مانگ رہے تھے۔ اس پر ایم ایل اے عمران کھیڑا والا کا کہنا ہے کہ وہ جیت نہیں سکتے لیکن چتر مقامی ہیں اور موجودہ ایم ایل اے ہیں اور اس کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں جن کی یہاں اچھی تعداد ہے۔

بی جے پی آدھی آبادی کا ووٹ چاہتی ہے، لیکن اس سے بڑی بات یہ ہے کہ پارٹی اب ان سے صرف اجولا یاسرکاری مکان کے نام پر ووٹ نہیں مانگ سکتی۔ پارٹی کو  جذباتی مسئلے کی بھی ضرورت تھی جس کے ذریعے خواتین کو راغب کیا جا سکے۔

کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے کہاکہ  "ہم ایک نئی اسکیم لے کر آئے ہیں، جس کا نام ہے پہلی نوکری پکی، اس میں ہم ہندوستان کے تمام گریجویٹس اور ڈپلومہ ہولڈرز کو اپرنٹس شپ کا حق دینے جا رہے ہیں۔ ایک سال تک آپ کی تربیت ہوگی۔

کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بی جے پی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جن بینک کھاتوں میں لوگوں کی طرف سے عطیہ کی گئی رقم رکھی گئی تھی انہیں این ڈی اے حکومت نے منجمد کر دیا ہے، جبکہ پارٹی پر محکمہ انکم ٹیکس نے بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔

اب تک انڈیا الائنس کی چار میٹنگیں پٹنہ، بنگلورو، ممبئی اور دہلی میں ہو چکی ہیں۔ اس اتحاد کے سامنے سب سے بڑا چیلنج سیٹوں کی تقسیم اور چہرے کا فیصلہ کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیٹ شیئرنگ پر حتمی منظوری جنوری کے آخر تک دی جا سکتی ہے۔ علاقائی پارٹیاں زیادہ سے زیادہ سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔