Bharat Express DD Free Dish

bilateral relations

وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ دورہ نہ صرف بھارت–ملیشیا تعلقات کو ایک نئی سمت دے رہا ہے بلکہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ اعتماد، دوستی اور مشترکہ امنگوں پر مبنی یہ شراکت داری آنے والے وقت میں دونوں ملکوں کے لیے نئی کامیابیوں کے دروازے کھولنے کی امید دلا رہی ہے۔

ملیشیا میں وزیر اعظم نریندر مودی کا پرتپاک استقبال اور اعلیٰ سطحی مذاکرات اس بات کی علامت ہیں کہ بھارت اور ملیشیا اپنے تاریخی تعلقات کو جدید تقاضوں کے مطابق نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی، اعتماد اور شراکت داری کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت ان اولین ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اپریل 1995 میں جمہوریہ مارشل آئی لینڈ کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ نغمہ محمد ملک اس وقت جاپان میں بھارت کی سفیر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں اور اب انہیں ٹوکیو میں قیام کے ساتھ اضافی طور پر مارشل آئی لینڈ کے لیے بھی سفارتی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

وزیر اعظم مودی 15 سے 18 دسمبر تک تین ممالک کا دورہ کریں گے، جس میں اردن، ایتھوپیا اور عمان شامل ہیں۔ اس دورے کا مقصد بھارت کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اور علاقائی و عالمی مسائل پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔

بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان اس معاہدے پر کافی عرصے سے بات چیت جاری ہے۔ اس سال جنوری میں انڈونیشیا کے اعلیٰ سیاسی اور فوجی وفد کے دورۂ نئی دہلی کے دوران اس معاملے پر تفصیل سے غور کیا گیا تھا۔

کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند 12 سے 17 اکتوبر تک بھارت، سنگاپور اور چین کے دورے پر ہیں، تاکہ کینیڈا کی انڈو-پیسیفک حکمت عملی کے تحت دوطرفہ تعلقات اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

وزارت نے کہا کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے عوامی رابطوں کو فروغ ملے گا اور دوطرفہ تعلقات کو بتدریج معمول پر لانے میں مدد ملے گی۔ طویل تعطل کے بعد فضائی خدمات کی بحالی سے عوامی رابطے اور دوطرفہ تبادلے کو تقویت ملے گی۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف صدر پتن کے دورے سے قبل بھارت آئیں گے۔ سربراہی اجلاس کی تیاری اور اہم دوطرفہ معاملات پر گفتگو کا امکان۔

اعداد و شمار کے مطابق، سنگاپور بھارت کا چھٹا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جس کے ساتھ دوطرفہ تجارت بھارت کی مجموعی تجارت کا تقریباً 2.96 فیصد ہے۔ 2014 سے اب تک سنگاپور سے بھارت میں 175 ارب امریکی ڈالر کی مجموعی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) آ چکی ہے۔

وزیراعظم وونگ نے کہا کہ سنگاپور بھارت کی اسکل ڈیولپمنٹ کی پہل کی حمایت جاری رکھے گا اور ایڈوانسڈ مینوفیکچرنگ منصوبوں میں تعاون کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے میں ترقی اور خوشحالی کا ضامن ہوگا۔