Bharat Express DD Free Dish

bilateral relations

قابل ذکر ہے کہ 27 مارچ کو نئی حکومت کے قیام کے بعد سرجیو گور نیپال کا دورہ کرنے والے اب تک کے اعلیٰ ترین امریکی سفارت کاروں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ ان کا یہ دورہ نہ صرف سفارتی سطح پر اہمیت رکھتا ہے بلکہ مستقبل میں امریکہ–نیپال تعلقات کو نئی سمت دینے کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

کینیڈین سکیورٹی انٹلی جنس سروس کی رپورٹ 2025 میں بھارت کو غیر ملکی مداخلت کرنے والے ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نئی دہلی نے اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے کینیڈین سیاستدانوں، صحافیوں اور انڈو-کینیڈین کمیونٹی کے افراد کے ساتھ خفیہ روابط قائم کرنے کی کوشش کی۔

بھارت نے اس معاہدے کے دوران اپنے حساس زرعی اور ڈیری سیکٹر کا تحفظ بھی یقینی بنایا ہے۔ دودھ، کریم، مکھن، دہی، پنیر اور دیگر زرعی مصنوعات کو اس ایف ٹی اے سے باہر رکھا گیا ہے، تاکہ مقامی کسانوں اور صنعت کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کے تبادلے کو نئی رفتار دینے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے انڈو پیسفک خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ 2010 کے جامع اقتصادی شراکت معاہدے کے بعد قائم ہونے والی رفتار کو مزید تیز کیا جائے گا اور تفریح سے لے کر توانائی تک ہر شعبے میں تعاون کو وسعت دی جائے گی۔ 

اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں دونوں ممالک کے درمیان کئی مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) کا تبادلہ بھی ہوا۔ یہ پیش رفت ہندوستان اور جنوبی کوریا کے درمیان سفارتی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں یہ شراکت داری نہایت اہم ہے، خاص طور پر مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں، جہاں 2026 سے جاری تنازعات نے عالمی سلامتی اور تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ہندوستان اور کوریا کا اتحاد امن اور استحکام کا واضح پیغام دیتا ہے۔

نئی دہلی اور سیول کے درمیان یہ ’’مستقبل شراکت داری‘‘ نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی بلکہ انڈو پیسیفک خطے میں امن، ترقی اور شمولیت کو بھی فروغ دے گی۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے صدر لی سے ملاقات کے بعد کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ وزیراعظم مودی کے ساتھ ہونے والی بات چیت اس شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔

ہنگری میں حالیہ انتخابات کو ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ٹیزا پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے 16 سال سے برسرِ اقتدار فیدیز پارٹی کو شکست دے دی۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 97 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد ٹیزا پارٹی نے 199 رکنی پارلیمنٹ میں 138 نشستیں حاصل کیں، جو کل ووٹوں کا تقریباً 53.6 فیصد بنتا ہے۔

یہ ملاقات بھارت اور فرانس کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی میدان میں تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں، جو مستقبل میں شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔