Bharat Express DD Free Dish

bilateral relations

بھارت نے اس معاہدے کے دوران اپنے حساس زرعی اور ڈیری سیکٹر کا تحفظ بھی یقینی بنایا ہے۔ دودھ، کریم، مکھن، دہی، پنیر اور دیگر زرعی مصنوعات کو اس ایف ٹی اے سے باہر رکھا گیا ہے، تاکہ مقامی کسانوں اور صنعت کو نقصان نہ پہنچے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کے تبادلے کو نئی رفتار دینے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے انڈو پیسفک خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ 2010 کے جامع اقتصادی شراکت معاہدے کے بعد قائم ہونے والی رفتار کو مزید تیز کیا جائے گا اور تفریح سے لے کر توانائی تک ہر شعبے میں تعاون کو وسعت دی جائے گی۔ 

اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں دونوں ممالک کے درمیان کئی مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) کا تبادلہ بھی ہوا۔ یہ پیش رفت ہندوستان اور جنوبی کوریا کے درمیان سفارتی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دی جا رہی ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں یہ شراکت داری نہایت اہم ہے، خاص طور پر مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں، جہاں 2026 سے جاری تنازعات نے عالمی سلامتی اور تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں ہندوستان اور کوریا کا اتحاد امن اور استحکام کا واضح پیغام دیتا ہے۔

نئی دہلی اور سیول کے درمیان یہ ’’مستقبل شراکت داری‘‘ نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی بلکہ انڈو پیسیفک خطے میں امن، ترقی اور شمولیت کو بھی فروغ دے گی۔

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے صدر لی سے ملاقات کے بعد کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ وزیراعظم مودی کے ساتھ ہونے والی بات چیت اس شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔

ہنگری میں حالیہ انتخابات کو ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ٹیزا پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے 16 سال سے برسرِ اقتدار فیدیز پارٹی کو شکست دے دی۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 97 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد ٹیزا پارٹی نے 199 رکنی پارلیمنٹ میں 138 نشستیں حاصل کیں، جو کل ووٹوں کا تقریباً 53.6 فیصد بنتا ہے۔

یہ ملاقات بھارت اور فرانس کے درمیان مضبوط ہوتے تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی میدان میں تعاون کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں، جو مستقبل میں شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔

وزیراعظم مودی نے اسرائیلی ہم منصب بنیامن نیتن یاہو سے دو طرفہ ملاقات بھی کی، جس میں باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال پر گفتگو کی اور ٹیکنالوجی، آبی وسائل کے انتظام، زراعت اور ٹیلنٹ شراکت داری جیسے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ دورہ بھارت اور اسرائیل کے درمیان مضبوط اور کثیر جہتی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات نے حالیہ برسوں میں نمایاں ترقی اور تحرک دیکھا ہے۔ اپنے دو روزہ دورے کے دوران وزیر اعظم مودی اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کریں گے اور اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب بھی کریں گے۔