Bharat Express DD Free Dish

Bihar elections

دوسرے مرحلے کے انتخابات کے لیے آج سے نامزدگی بھرنے کا عمل تیز ہوگیا ہے۔ اب نامزدگی کے چند ہی دن باقی ہیں، لیکن مہاگٹھ بندھن میں شامل سب سے بڑی پارٹی راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے تاحال امیدواروں کی فہرست جاری نہیں کی ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے جمعرات کو بہار اسمبلی انتخابات کے لیے اسٹار کمپینرز کی لسٹ جاری کر دی ہے۔ پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی سمیت 40 لیڈروں کو انتخابی مہم کی ذمہ داریاں سونپی ہیں۔ جانئے اور کن کن لیڈروں کو یہ ذمہ داری ملی ہے؟

بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے لوک گیتوں کی مشہور گلوکارہ میتھلی ٹھاکر کو علی نگر سیٹ سے امیدوار بنایا ہے۔ تاہم یہاں سے ان کا جیت پانا آسان نہیں ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان کو یہاں پر کون کون سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی پہلی لسٹ جاری کر دی ہے جس میں تقریبا71 امیدواروں کے نام شامل ہیں۔ اس لسٹ میں کئی بڑے اور پرانے چہروں کو دوبارہ موقع دیا گیا ہے، جس سے صاف ہے کہ پارٹی اپنے تجربہ کار رہنماؤں پر بھروسہ بنائے ہوئے ہے۔

  چراغ پاسوان کی وجہ سے این ڈی اے میں سیٹوں کی تقسیم پھنس گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی لیڈر دھرمیندر پردھان، ونود تاوڑے، اور منگل پانڈے نے گزشتہ منگل 7 اکتوبر 2025 کو چراغ پاسوان سے دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔

راہل گاندھی آن لائن شرکت کریں گے، اجلاس کی صدارت پارٹی صدر ملکارجن کھڑگے کریں گے۔ آر جے ڈی اور بایاں محاذ کے ساتھ سیٹوں کی تقسیم پر غور متوقع۔

رام کرپال یادو نے کہا: لالو پرساد یادو کی سیاست مختلف نوعیت کی تھی۔ اگرچہ انہوں نے کانگریس سے اتحاد ضرور کیا، لیکن کبھی کسی کے پیچھے چلنے کے بجائے برابر کی سطح پر سیاست کی۔

بہار میں بی جے پی-جے ڈی یو حکومت مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بحران میں ناکام ہو کر اب اقتدار بچانے کے لیے ووٹ ہتھیا رہی ہے۔ انہوں نے دوٹوک کہا — ’’آئین نے ہر ہندوستانی کو ووٹ کا حق دیا ہے، یہ حق کوئی طاقت نہیں چھین سکتی۔‘‘

بی جے پی کے ترجمان اجے آلوک نے کہا کہ گاندھی خاندان خود کو سسٹم سے اوپر سمجھتا ہے، جب کہ لالو خاندان خود کو ایک سسٹم سمجھتا ہے۔ لالو خاندان کا اثر ختم ہو چکا ہے اور گاندھی خاندان میں ابھی بھی کچھ توانائی باقی ہے، وہ بھی بہار کے انتخابات میں ختم ہو جائے گی۔

سپریم کورٹ کی ہدایت پر سیاسی ردعمل، کانگریس اور آر جے ڈی نے فیصلے کو جمہوریت کی جیت قرار دیا – راہل گاندھی کی ’ووٹ چوری‘ مہم کو ملی تقویت