Bharat Express DD Free Dish

Bihar Election 2025

پروگرام میں شریک ایک خاتون نے کہا کہ وزیراعظم مودی 3 بجے آئیں گے، لیکن ہم 10 بجے ہی پہنچ گئے۔ وہ بھارت کو وشوگر بنانے کے لیے لگاتار کام کر رہے ہیں۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ 20 برس کی این ڈی اے حکومت سے نوجوانوں نے کیا مانگا؟ اپنے حصے کی نوکری اور روزگار ہی تو مانگا، مگر اس بدعنوان این ڈی اے حکومت نے نوجوانوں کی ضروریات پر کبھی توجہ نہیں دی۔ نوجوانوں کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔

جے پی ایم پی منوج تیواری نے بھی کھیساری لال یادو کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ تیجسوی یادو شہاب الدین زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں، اور کچھ لوگ رام مندر کا مخالف ہیں۔ جو رام مندر کا سگا نہیں، وہ کسی کا سگا نہیں ہو سکتا۔

امت شاہ نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار اور وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بہار کی ترقی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ این ڈی اے کے پانچوں اتحادی جماعتیں پانڈوؤں کی طرح ایک ساتھ اس انتخابی میدان میں اُتری ہیں، جبکہ دوسری جانب ’مہاٹھگ بندھن‘ کے اندر اتنی لڑائیاں ہیں کہ وہ ہمارے خلاف الیکشن لڑنے کے بجائے آپس میں ہی لڑ رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان وعدوں میں کتنی صداقت ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن عوام ان اعلانات کولے کر  شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ عام لوگ کہہ رہے ہیں کہ منشور کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے لیڈروں کو جادو کی چھڑی دے دی گئی ہے

گہلوت نے سوال کیا کہ جب انتخابات نتیش کمار کی قیادت میں لڑے جا رہے ہیں تو منشور جاری کرنے کی ذمہ داری انہیں کیوں نہیں دی گئی؟ کیا اب وہ ایسی حالت میں نہیں ہیں کہ عوام کے سامنے آ کر منشور پڑھ سکیں؟

منشور میں روزگار، تعلیم، صحت، خواتین کے بااختیار بنانے اور کسانوں کی خوشحالی پر خاص زور دیا گیا ہے۔ این ڈی اے نے کہا کہ یہ سنکلپ پترا بہار کو اگلے پانچ برسوں میں آتم نربھر، ترقی یافتہ اور جدید ریاست بنانے کا روڈ میپ ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز گجرات کے کیوڑیا میں واقع ’’اسٹیچو آف یونٹی‘‘ پر بھارت کے آئرن مین، سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 150ویں جینتی کے موقع پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا کہ سردار پٹیل نے ملک کی یکجہتی اور اتحاد کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی اور آج بھارت اُن کے خوابوں کے مطابق مضبوط، متحد اور ترقی یافتہ ملک بننے کی سمت میں گامزن ہے۔

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے بہار اسمبلی انتخابات کے دوران ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بہار تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ریاست میں پسماندہ و انتہائی پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔

بی جے پی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ راہل گاندھی کے خلاف فوری اور مثالی کارروائی کرے۔ ساتھ ہی، کمیشن سے یہ بھی گزارش کی گئی کہ انہیں شوکاز نوٹس جاری کیا جائے اور انہیں بلا شرط عوامی معافی مانگنے کا حکم دیا جائے۔ جمہوری اور انتخابی آداب کی حرمت کو برقرار رکھنے کے لیے اُن پر ایک مقررہ مدت تک انتخابی مہم چلانے پر پابندی عائد کی جائے۔