آر جے ڈی امیدوار اور بھوجپوری اداکار کھیساری لال یادو۔
چھپرا: بہار کے چھپرا حلقے سے انتخاب لڑ رہے آر جے ڈی امیدوار اور بھوجپوری اداکار کھیساری لال یادو نے ایک بار پھر این ڈی اے حکومت اور نرہوا عرف دنیش لال یادو پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ کھیساری لال یادو نے نرہوا کے ’کرشن ونشی‘ نہ ہونے اور ’یدوملّا‘ والے بیان پر جواب حملہ کیا ہے
’’مندر-مسجد کے ساتھ ساتھ روزگار بھی چاہتا ہوں‘‘
انہوں نے کہا، ’’کیا مسلمان ہمارے بھائی اور اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟ جب سے وہ (نرہوا) بی جے پی میں گئے ہیں، تب سے ایسے ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے انہوں نے اپنی فلموں میں 6-7 بار مسلمان شخص کا کردار ادا کیا ہے۔ پہلے یہ سوچ کہاں گئی تھی؟ لیکن میں پارٹی بدلنے والا نہیں ہوں، میرے لیے انسان کی ذات معنی نہیں رکھتی، میں مندر-مسجد کے ساتھ ساتھ روزگار بھی چاہتا ہوں۔‘‘
کھیساری لال یادو نے این ڈی اے حکومت پر بھی کئی سنگین الزامات لگائے۔ ایک پروگرام میں انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ میں یہاں نہیں رہتا، لیکن باہر کما رہا انسان دور سے بیٹھ کر بھی اپنے فیملی کو چلا سکتا ہے۔
آر جے ڈی امیدوار کھیساری لال نے کہا کہ یہی فیصلہ میں نے بھی کیا ہے کہ میں کہیں بھی رہوں گا لیکن چھپرا کی ترقی کے لیے کام کریں گے۔ کھیساری نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گجرات میں بھی پہلے جنگل راج تھا، لیکن وہاں اب 200 سے زیادہ فیکٹریاں بن چکی ہیں، لیکن بہار میں 20 سال سے این ڈی اے کی حکومت ہے، پھر بھی ایک فیکٹری نہیں۔ کیا بہار ایک بھی فیکٹری لگانے کے لائق نہیں؟
بتا دیں کہ دو دن پہلے دنیش لال یادو نے کھیساری لال یادو پر کرشن ونشی نہ ہونے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر کی مخالفت کرنے والا کرشنا کی اولاد کیسے ہو سکتا ہے، یادو قبیلہ شری کرشن سے جڑا ہوا ہے، لیکن جو رام کی مخالفت کرے گا وہ کیسے کرشن ونشی سکتا ہے؟ یہ تو ید ملا ہے۔
ادھر بی جے پی ایم پی منوج تیواری نے بھی کھیساری لال یادو کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ تیجسوی یادو شہاب الدین زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں، اور کچھ لوگ رام مندر کا مخالف ہیں۔ جو رام مندر کا سگا نہیں، وہ کسی کا سگا نہیں ہو سکتا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

