Bharat Express DD Free Dish

Bihar Assembly

جن سوراج پدیاترا کی قیادت کر رہے پرشانت کشور نے امت شاہ اور دھرمیندر پردھان پر سنگین الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان دونوں لیڈروں کے دباؤ میں بہار انتخابات سے تین امیدواروں نے اپنا نام واپس لے لیا ہے۔ پرشانت کشور نے امیدواروں پر دباؤ کا بھی الزام لگایا اور معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ راجن کمار کے قتل کا ملزم سبودھ یادو آر جے ڈی امیدوار کے گھر میں چھپا ہوا ہے۔ اس اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے منگل کو دیوا گپتا کے گھر پر چھاپہ مارا اور راجن قتل کیس کے ملزم سبودھ یادو کو گرفتار کر لیا۔

بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے لوک گیتوں کی مشہور گلوکارہ میتھلی ٹھاکر کو علی نگر سیٹ سے امیدوار بنایا ہے۔ تاہم یہاں سے ان کا جیت پانا آسان نہیں ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ ان کو یہاں پر کون کون سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

وزیر اعظم نریندر مودی 15 اکتوبر کو شام 6 بجے بہار میں این ڈی اے کارکنان سے بات چیت کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی وہ "میرا بوتھ سب سے مضبوط" مہم کے تحت ان سے جڑیں گے اور بہار اسمبلی انتخابات کے لیے جیت کا منتر پیش کریں گے۔ اس کی جانکاری خود پی ایم مودی نے سوشل میڈیا کے ذریعے سے دی۔

بہار میں آئندہ اسمبلی انتخابات 2025 کو لیکر الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ اس بیچ، بھارت ایکسپریس کا میگا کانکلیو، "نئے بھارت کی بات، بہار کے ساتھ"، آج شروع ہوگیا ہے۔ بھارت ایکسپریس کے اسٹیج پر بہار کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور ماہر تعلیم ابھیانند پہنچے، جنہیں گروجی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کئی مسائل پر اپنی بات رکھی۔ آئیے بتاتے ہیں انہوں نے کیا کچھ کہا؟

 وزیراعظم مودی نے کہا کہ بہارمیں آرجے ڈی-کانگریس کے اسٹیج سے ان کی ماں کوگالیاں دی گئیں، جوصرف ان کی ماں کی توہین نہیں بلکہ پورے ملک کی ماؤں، بہنوں اوربیٹیوں کی توہین ہے۔

بہار کی کابینہ نے جمعہ کے روز خواتین کے روزگار کے لیے ایک نئی اسکیم ’مکھیہ منتری مہیلا روزگار یوجنا‘ کو منظوری دی ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد ریاست کے تمام خاندانوں کی ایک خاتون کو اپنی پسند کا کام شروع کرنے کے لیے مالی مدد فراہم کرنا ہے۔

تیجسوی یادو نے دو صفحوں کا کھلا خط جاری کیا ہے۔ خط میں، سب کو رکشا بندھن کی مبارکباد دیتے ہوئے، انہوں نے اپنے انتخابی وعدوں کو شمار کیا ہے اور دعوی کیا ہے کہ ان کے ’تیجسوی بھیا‘ ہر گھر کی ہر بہن کی خوشحالی کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور پالیسیاں بنا رہے ہیں۔ ان کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہیں تمام بہنوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر شکیل احمد خان نے کہا کہ چاہے وہ سماج کے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو، ووٹ کا حق اسے آئین نے دیا ہے اور اگر اس ووٹ کے خلاف کوئی کام منصفانہ طریقے سے نہیں ہو رہا تو ہر کسی کو پریشانیاں ہونی چاہیے۔یہ کیسے ممکن ہےکہ  جو کام کم از کم ایک سال میں کرنا تھا،اس کو ایک مہینے میں کیا جارہا ہے۔

تیجسوی یادو نے بہار اسمبلی میں کہا کہ آئین میں 18 سال سے زیادہ عمر کے شہری کو ووٹ دینے کا حق ہے۔ ہم SIR کے خلاف نہیں ہیں، لیکن ہم اس کے عمل کی مخالفت کرتے ہیں۔ شفافیت ہونی چاہیے اور الیکشن کمیشن کو ایمانداری اور غیر جانبداری سے کام کرنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔