Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کوبنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمزٹریبونل سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے ان کے دفاع کے لئے سینئر وکیل امین الغنی کو فراہم کیا ہے۔ یہ فیصلہ شیخ حسینہ کے لئے راحت کی بات ہے کیونکہ امین الغنی کا شمار بنگلہ دیش کے سرکردہ وکلاء میں ہوتا ہے۔

ٹیگور کا آبائی گھر نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ پوری دنیا میں ان کے مداحوں کے لیے ایک اہم مقام ہے۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے املاک کی حفاظت کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

محمد یونس نے کہا کہ ہم ایسے انتخابات چاہتے ہیں جو بغاوت کے شہداء کی روحوں کو مطمئن کریں اور ان کی روحوں کو سکون حاصل ہو۔

نئی کیٹیگری میں ایسے پیشہ ور افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے بیرون ملک رہتے ہوئے جنگ آزادی میں حصہ لیا۔ اس کے علاوہ عالمی رائے عامہ بنانے میں مدد کرنے والے بنگلہ دیشی شہری، مجیب نگر حکومت کے افسران اور ملازمین، ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر معاونین بھی اس میں شامل ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کا انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک اہم موڑ ہو سکتا ہے، خاص طور پر موجودہ حکومت کے خلاف اپوزیشن کے طور پر۔پارٹی نے واضح کیا کہ وہ انتخابات میں منصفانہ اور شفاف عمل کی توقع رکھتی ہے۔

کچھ معاملات میں، گرفتار افراد کے روابط مشتبہ دہشت گرد گروہوں اور اسمگلنگ نیٹ ورکس سے بھی جوڑے گئے ہیں۔ بی ایس ایف نے واضح کیا کہ غیر قانونی دراندازی کے خلاف یہ کارروائی انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق کی جا رہی ہے، اور واپس بھیجے جانے والے افراد کو بنگلہ دیشی حکام کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

یونس نے ہفتے کی شام بی این پی اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے ملاقاتیں طے کی ہیں تاکہ موجودہ سیاسی صورتحال پر بات چیت کی جا سکے۔ بی این پی کا وفد شام 7 بجے، جبکہ جماعت اسلامی کے رہنما شام 8 بجے ان سے ملاقات کریں گے۔

وزارت تجارت اور صنعت کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (DGFT) نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے اس کی اطلاع دی ہے۔

گجرات حکومت کی وزارت داخلہ نے ان بنگلہ دیشیوں کی جھونپڑیوں کو گرانے کا حکم دیا ہے جن کی شناخت غیر قانونی کے طور پر ہوئی ہے۔ پہلے مرحلے میں اے ایم سی نے غیر قانونی طور پر مقیم بنگلہ دیشیوں کے مکانات گرانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بنگلہ دیشی پولیس نے حال ہی میں شیخ حسینہ اور 72 دیگر کے خلاف خانہ جنگی بھڑکانے اور محمد یونس کی قیادت والی عبوری انتظامیہ کو ہٹانے کی سازش کرنے کے الزام میں معاملہ درج کیا ہے۔