Bharat Express DD Free Dish

Bahujan Samaj Party

مایاوتی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اشوک سدھارتھ نے سنیاس لینے کا فیصلہ بہت دیر سے کیا۔ اگر انہیں اپنے داماد آکاش آنند کے روشن مستقبل یا بہوجن تحریک کے وسیع تر مفاد کی فکر ہوتی تو وہ بغیر تاخیر کے پہلے ہی سنیاس کا اعلان کر دیتے۔ س سے آکاش آنند کی پارٹی اور تحریک کے تئیں سرگرمی کافی حد تک یقینی بنائی جا سکتی تھی۔مایاوتی کا کہنا ہے کہ وقت پر سنیاس کا فیصلہ نہ لینا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اشوک سدھارتھ کی نیت میں کھوٹ ہے

مایاوتی نے کہا کہ ان کے ایسے رویہ کی وجہ سے اتر پردیش میں بھی بہوجنوں کی حالت ہر معاملے میں بہت خراب ہے اور پریشان ہیں جبکہ بی جے پی کے لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی آزادی ہے۔ ساتھ ہی، بجلی اور دیگر سرکاری محکموں میں بڑھتی ہوئی نجکاری کے باعث صورتحال تشویشناک ہے۔ حکومت عوامی فلاح و بہبود کی اپنی آئینی ذمہ داری کو صحیح سے نبھائے۔

قومی سیاسی جماعتوں کو حاصل ہونے والے اعلان کردہ چندے کی کل رقم 2544.28 کروڑ روپے ہیں جو 12 ہزار 547 چندہ دینے والوں سے ملے ہیں۔ یہ نمبر گزشتہ سال کے مقابلے 199 فیصد زیادہ ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کے روز رائے بریلی میں کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ مایاوتی ہمارے ساتھ الیکشن لڑیں۔ اگر تینوں پارٹیاں مل کر الیکشن لڑتی تو بی جے پی کبھی جیت نہیں پاتی۔ کانشی رام نے بنیاد رکھی۔ بہن جی نے کام کیا۔ یہ میں بھی مانتا ہوں۔

بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ چونکہ اس وقت مرکز کی کانگریس حکومت کے ارادے بھی بگڑ چکے تھے، جو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے بعد اتر پردیش میں صدر راج لگا کر پردے کے پیچھے سے اپنی حکومت چلانا چاہتی تھی، جن کی یہ سازش بی ایس پی نے ناکام بنا دیا تھا۔

بی ایس پی کے قومی کوآرڈینیٹر آکاش آنند کو مایاوتی نے لوک سبھا انتخابی مہم کے دوران سیتا پور میں اشتعال انگیز تقریر کرنے کے بعد اہم ذمہ داریوں سے ہٹا دیا تھا۔ اس کی وجہ ان کی ناپختگی بتائی گئی۔

آزاد سماج پارٹی کے ریاستی صدر سنیل چتور نے کہا کہ پارٹی نے اسمبلی ضمنی انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ تمام بوتھ اور سیکٹر کمیٹیوں کو ایکٹیو کر دیا گیا ہے۔ کارکنوں میں جوش و خروش ہے۔

بی ایس پی نے لوک سبھا انتخابات میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصے میں اپنی سب سے خراب کارکردگی دکھائی ہے۔ بی ایس پی زیادہ تر سیٹوں پر تیسری پارٹی رہی اور صرف 9.39 فیصد ووٹ حاصل کر سکی۔

بی ایس پی سپریمو نے مزید کہا کہ لوک سبھا انتخابات کا جو بھی نتیجہ آیا ہے، وہ عوام کے سامنے ہے اور اب انہیں ملک کی جمہوریت، آئین اور قومی مفاد کے بارے میں سوچنا ہوگا اور فیصلہ کرنا ہوگا کہ انتخابی نتیجہ کیا آیا ہے۔

دراصل، گینسڑی اسمبلی سیٹ پرتقریباً سوا لاکھ مسلم رائے دہندگان ہیں، اس لئے اسے مسلم اکثریتی سیٹ مانا جاتا ہے۔ 80 ہزار سے زائد مسلم ووٹ پول ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس لئے تینوں پارٹیوں کے امیدوار مسلم ووٹوں پر خاص توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔