Bharat Express DD Free Dish

Bahraich Violence

بہرائچ کے مہاراج گنج قصبہ میں درگا مورتی کے وسرجن کے دوران ہوئے تنازعہ کے بعد رام گوپال مشرا کا قتل کردیا گیا تھا۔ واقعہ کے بعد 13 افراد کوگرفتارکرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ عدالت نے دو دن پہلے قصوروارقرار دیا تھا۔ آج عدالت نے سزا کا اعلان کیا۔

آج الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے بہرائچ کے مہاراج گنج کے مہاسی میں تشدد کے بعد محکمہ پی ڈبلیو ڈی کی طرف سے چسپاں 23 گھروں پر بلڈوزر کی کارروائی کے نوٹس کے معاملے میں ایک بار پھر 5 دن کی توسیع دی ہے۔

جب نوپور شرما نے یہ کہا تو ہماچل پردیش کے گورنر شیو پرتاپ شکلا اور راجستھان کے سابق گورنر کلراج مشرا بھی اسٹیج پر موجود تھے۔

عدالت نے کہا، "ہم مزید حکم دیتے ہیں کہ اگر وہ آج سے 15 دن کی مدت کے اندر نوٹس کا جواب داخل کرتے ہیں، تو مجاز اتھارٹی اس پر غور کرے گی اور معقول حکم جاری کرکے فیصلہ کرے گی۔ اس بارے میں متاثرہ فریقین کو آگاہ کیا جائے گا۔

بہرائچ تشدد کا مرکزی ملزم عبدالحمید قانون کے شکنجے میں ہے۔ لیکن اس وقت ان کے گھر پر خاموشی ہے۔ تشدد کے الزام میں پورا خاندان جیل میں ہے۔ خواتین اپنے گھروں سے نکل چکی ہیں۔رام گوپال کے قتل کے بعد ہجوم نے عبدالحمید کے گھر پر حملہ کر دیا۔ اس دوران دونوں طرف سے پتھراؤ اور شیشے کی بوتلیں برسیں۔

سماجودی پارٹی  لیڈر ماتا پرساد پانڈے نے بہرائچ جانے کی اجازت نہ ملنے پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ ایس پی لیڈر نے کہا کہ یہ حکومت کی آمریت اور من مانی ہے۔

دوسری جانب متوفی رام گوپال مشرا کی اہلیہ ڈولی مشرا کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ ڈولی مشرا نے پولیس پر رشوت لینے کا الزام لگایا اور کہا کہ اسے انصاف نہیں دیا جا رہا ہے۔ صرف دکھاوے کے لیے دو ملزمان کا انکاونٹر ہوا، اس لیے ان کی ٹانگ میں گولی لگی ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں ملزمین اپنے رشتہ داروں کے ساتھ نیپال فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان دونوں نے ایس ٹی ایف اور پولیس ٹیم پر گولی چلائی۔

جمعیۃ علماء بہرائچ کے ایک وفد نے فساد زدہ علاقوں اورخاص طور سے نذرآتش کی گئی دوکانوں کا جائزہ لیا اور تھانہ رام گاؤں کے انچارج آلوک کمار سے ملاقات کرکے انہیں حقیقی صورت حال سے آگاہ کرایا اوربے قصوروں کی گرفتاری پرسخت اعتراض درج کرایا۔

وارانسی پہنچے سماج وادی پارٹی کے ریاستی صدر شیام لال پال نے یوگی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت کبھی بلڈوزر کی بات کرتی ہے، کبھی ایک ملک، ایک الیکشن اور کبھی وقف بورڈ کی بات کرتی ہے۔ لیکن، اس کا عوام سے جڑے حقیقی مسائل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔