Bharat Express DD Free Dish

Assembly Election

کانگریس پارٹی نے آئندہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اسکریننگ کمیٹیوں کی تشکیل کا اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی قیادت کی جانب سے سب سے اہم اور توجہ کا مرکز فیصلہ آسام سے متعلق کیا گیا ہے، جہاں اسکریننگ کمیٹی کی سربراہی پرینکا گاندھی واڈرا کو سونپی گئی ہے۔

بہار اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد وزیر اعظم مودی نے منگل کے روز این ڈی اے کی پارلیمانی پارٹی میٹنگ میں واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اب اگلا ہدف مغربی بنگال ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس میں منعقد اس اجلاس میں وزیراعظم نے 2026 کے بنگال اسمبلی انتخابات کو سامنے رکھتے ہوئے پارٹی اراکین کو ابھی سے تیاری میں جٹنے کی ہدایت دی۔

مغربی بنگال کے ضلع مرشدآباد میں بابری مسجد کی بنیاد رکھنے کے بعد سرخیوں میں آئے ٹی ایم سی کے معطل رکن اسمبلی ہمایوں کبیر کو اسد الدین اویسی کی پارٹی اے آئی ایم آئی ایم نے بڑا جھٹکا دیا ہے۔ پارٹی نے نہ صرف ان کے سیاسی اتحاد کی پیشکش کو سختی سے مسترد کر دیا بلکہ اسے ’’سیاسی طور پر مشکوک‘‘ قرار دیا ہے۔

مایاوتی نے اسٹیج سے سماج وادی پارٹی پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی ایک دوغلی پارٹی ہے، جو اقتدار میں آتے ہی کانشی رام کے نام سے منسوب اسکیموں اور اداروں کے نام بدل دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی کو صرف پی ڈی اے اور کانشی رام یاد آتے ہیں جب وہ اقتدار میں نہیں ہوتی ہے۔

پنجاب کے لدھیانہ ویسٹ سمیت چار ریاستوں کی پانچ اسمبلی سیٹوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج جاری ہیں۔ ووٹوں کی گنتی صبح 8 بجے سے شروع  ہوگئی ہے ۔

اے آئی ایم آئی ایم کے ترجمان عمران سولنکی نے کہا ’’ہم یہاں ایک بڑا اعلان کرنے آئے ہیں۔ ہم مہاراشٹر، اتر پردیش، بہار اور دہلی میں لڑے۔ بنگال میں ہم تمام سیٹوں سے لڑیں گے۔ گزشتہ پنچایتی انتخابات میں اے آئی ایم آئی ایم کو مالدہ میں 60,000، مرشد آباد میں 25,000 اور دیگر علاقوں میں 15,000 سے 18,000 ووٹ ملے تھے۔‘‘

جہاں عام آدمی پارٹی تیسری بار اقتدار حاصل کرنے کی لڑائی میں مصروف ہے وہیں بی جے پی اور کانگریس بھی دہلی کے تخت پر قبضہ کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔

اتر پردیش کی 10 اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہو نےتھے، لیکن ایودھیا کی ملکی پور سیٹ پر الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس وقت الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے۔ حالانکہ وہ کیس عدالت سے واپس لے لیا گیا ہے۔

ادے بھان نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں کانگریس کا ووٹ فیصد 28 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد ہو گیا ہے، جب کہ بی جے پی کا ووٹ فیصد 58 فیصد سے کم ہو کر 46 فیصد ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ لوک سبھا میں کانگریس نے ہریانہ میں پانچ سیٹیں جیتی ہیں اور تین سیٹوں پر بہت کم فرق سے الیکشن ہاری ہے۔

کرن پور اسمبلی سیٹ سے کانگریس کے امیدوار گرمیت سنگھ کنڑ کی انتخابات سے پہلے موت ہو گئی تھی۔ جس کے باعث الیکشن کمیشن نے الیکشن منسوخ کر دیا تھا۔ گرمیت سنگھ کنڑ ایک سنگین بیماری میں مبتلا تھے۔ جس کی وجہ سے دہلی میں ان کی موت ہو گئی۔