Bharat Express DD Free Dish

Asian Games

فیڈریشن کے خلاف کارروائی کی ایک اہم وجہ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے لیے مناسب نظام کا فقدان بھی بتایا جا رہا ہے۔ حکومت اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ فیڈریشن کے فیصلوں اور انتظامی طریقہ کار کا کھلاڑیوں اور ان کے مفادات پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔وزارت کے مطابق معاملہ صرف انتظامی کام کاج تک محدود نہیں ہے بلکہ کھلاڑیوں کے حقوق اور ان کے مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے۔

سدھا سنگھ نے 2022 میں مسابقتی کھیلوں سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے 2012 میں انہیں ارجن ایوارڈ سے نوازا، جبکہ 2021 میں ملک کے چوتھے اعلیٰ شہری اعزاز پدم شری سے بھی سرفراز کیا گیا۔

۔بیڈمنٹن ایسوسی ایشن آف انڈیا (بی اے آئی) کی سلیکشن کمیٹی نے کھلاڑیوں کا انتخاب حالیہ قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں ان کی کارکردگی اور 26 مئی 2026 تک کی بی ڈبلیو ایف (بی ڈبلیو ایف)رینکنگ کی بنیاد پر کیا ہے۔

جسپال رانا کی کوچنگ کا سب سے نمایاں باب اولمپک میڈلسٹ منو بھاکر کے ساتھ ان کا کام رہا۔ انہوں نے منو بھاکر کی فنی اور ذہنی تیاری میں اہم کردار ادا کیا، جس کا نتیجہ 2024 پیرس اولمپکس میں دو تاریخی کانسی کے تمغوں کی صورت میں سامنے آیا۔انہی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2020 میں بھارت کے باوقار دروناچاریہ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے خواتین کھلاڑیوں کے زچگی کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے پہلوان ونیش پھوگاٹ کو 2026 ایشیائی کھیلوں کے سلیکشن ٹرائلز میں حصہ لینے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے ریسلنگ فیڈریشن کی نئی سلیکشن پالیسی کو ’امتیازی‘ قرار دیتے ہوئے اس پر سخت ناراضگی ظاہر کی اور وجہ بتاؤ نوٹس کو ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیا۔

 دہلی ہائی کورٹ نے ونیش پھوگاٹ معاملے میں مرکزی حکومت کو حکم دیا ہے۔ عدالت نے ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا سے پوچھا کہ آخرانہیں گھریلو مقابلوں کے لئے نا اہل کیوں قراردیا گیا۔

نکہت زرین نے پنجاب کے شہر پٹیالہ میں منعقد ہونے والے کوالیفائنگ ٹرائلز کے ذریعے دونوں اہم مقابلوں کے لیے اپنی جگہ یقینی بنانے کی کوشش کی تھی، تاہم انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹس میں منعقدہ قومی ٹرائلز کے دوران خواتین کے 51 کلوگرام وزن کے سیمی فائنل مقابلے میں ان کا سامنا ساکشی چودھری سے ہوا، جہاں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیر اعظم نے ایشیائی کھیلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کو ملک کی کامیابی سے جوڑا۔ انہوں نے کہا، ''ایشیائی کھیلوں میں ہندوستان کی تمغوں کی تعداد ملک کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔ ایشیائی کھیلوں میں یہ ہندوستان کی اب تک کی بہترین کارکردگی ہے اور میں ذاتی طور پر مطمئن ہوں کہ ہم صحیح راستے پر جا رہے ہیں۔

اس سے پہلے ہفتہ کو پی ایم مودی نے 100 تمغے جیتنے پر کھلاڑیوں کو مبارکباد دی تھی۔ مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وہ 10 اکتوبر کو دستے کی میزبانی کریں گے اور کھلاڑیوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

کھلاڑیوں کے علاوہ ہاکی انڈیا نے ہاکی ٹیم کے ہر معاون اسٹاف کے لیے 2.5 لاکھ روپے دینے کا بھی اعلان کیا۔ ہندوستانی مردوں کی ہاکی ٹیم نے جمعہ کو 2018 کےگولڈ میڈل  فاتح جاپان کو شکست دے کر ایشیائی کھیلوں میں ہاکی کا چوتھا  گولڈ جیت لیا۔