Bharat Express DD Free Dish

Arunachal Pradesh

پیر کو اروناچل پردیش کے سرحدی گاؤں کبتھو میں 'وائبرنٹ ولیج' پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر داخلہ امت شاہ نے چین کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ دور گزر گیا جب کوئی بھی ہندوستان کی سرحدی زمین پر قبضہ کر سکتا تھا۔

China: چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمس نے پیر کے روز نام بدلنے کی جانکاری دی ہے۔ یہ تیسری بار ہے جب چین نے اپنے ریکارڈ میں اروناچل پردیش کی جگہ کا نام بدلا ہو۔ اس سے پہلے چین دو بار ایسا کرچکا ہے۔

بھارت ماضی میں بھی چین کے اس اقدام کو مسترد کر چکا ہے اور یہ کہتا رہا ہے کہ اروناچل پردیش "ہمیشہ سے" ہندوستان کا اٹوٹ حصہ رہا ہے اور "ہمیشہ" رہے گا اور "بنائے گئے" نام اس حقیقت کو نہیں بدلتے۔

سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات 1.45 بجے چانگ لانگ میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ 30 منٹ بعد بیکانیر میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔

Cheetah Helicopter Crash: ہندوستانی فوج کا چیتا ہیلی کاپٹر اروناچل پردیش کے منڈلا پہاڑی علاقے کے پاس حادثے کا شکار ہوگیا ہے۔ حادثہ کے وقت ہیلی کاپٹر میں پائلٹ اور کوپائلٹ سوار تھے۔

راجناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ آج میں ملک کے سرحدی علاقوں میں بارڈر روڈز آرگنائزیشن کی طرف سے بنائے گئے 28 بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں کو قوم کے نام وقف کرتے ہوئے بہت خوشی اور فخر محسوس کر رہا ہوں۔

ایک اور  ٹویٹ میں رجیجو نے کہا کہ  انڈین آرمی کے جوانوں کے ساتھ اپنی تصویر پوسٹ کی اور کہاکہ اروناچل پردیش کے توانگ میں یانگتسے کا علاقہ بہادر ہندوستانی فوجیوں کی مناسب تعیناتی کی وجہ سے اب مکمل طور پر محفوظ ہے

یہ جھڑپ ایک ایسے وقت میں ہوئی جب روس اور یوکرین کے درمیان جنگ جاری ہے اور دوسری جانب نینسی پیلوسی نے حال ہی میں چین کی دھمکیوں کے باوجود تائیوان کا دورہ کیا۔ اس دورے کے بعد چین نے تائیوان کے گرد فوجی اجتماعات کی بڑی تعداد قائم کر دی تھی۔

ہندوستان کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ (Rajnath Singh)نے کہا کہ جمعہ کو اروناچل پردیش میں توانگ سیکٹر کے یانگتسے علاقے میں دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان جھڑپ اورمار پیٹ ہوئی۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریقوں کو معمولی چوٹیں آئیں اور ہندوستانی فوجیوں نے چینی دراندازی کا منہ توڑ جواب دیا۔

9 دسمبر کو ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ چین بار بار 17 ہزار فٹ بلند چوٹی پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارتی فوج کے ذرائع نے بتایا کہ چوٹی پر بھارت کا مضبوط کنٹرول ہے۔